Tuesday, 21 August, 2007, 18:00 GMT 23:00 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
’سیاسی سرحدیں بنتی اور مٹتی رہتی ہیں لیکن تہذیبی اِکائیاں مُدتوں قائم رہتی ہیں۔۔۔‘ یہ تھا وہ نظریہ جس کی بنیاد پر قرۃالعین حیدر کے معروف ناول کا ڈھانچا اُستوار ہوا ہے۔
اُردو میں یہ ایک انوکھی ساخت کا ناول تھا جسکی کہانی ڈھائی ہزار سال پہلے شروع ہوتی ہے اور بیسویں صدی کے نصف پر آکر رُکتی ہے ۔۔۔ لیکن اس تاثر کے ساتھ کہ بہتے دریا کی لہروں کے سمان یہ کتھا ابھی چلتی رہے گی۔۔۔ شاید ابد تک۔۔۔ اور کائنات کے مکمل خاتمے کے بعد اگر دھرتی اور آکاش دوبارہ جنم لیتے ہیں تو یہ کتھا بھی پھر سے شروع ہوجائے گی۔۔۔
گوتم نیلمبر کی یہ داستان چار ادوار میں تقسیم کی جاسکتی ہے: پہلا دور چندر گُپت موریا کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے (چار سو برس قبلِ مسیح)۔ دوسرا دور لودھی سلطنت کے خاتمے اور مغلوں کی آمد سے شروع ہوتا ہے جبکہ تیسرے دور کا تعلق ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے سے ہے۔ ناول کا چوتھا اور آخری دور 1930 کے لگ بھگ شروع ہوتا ہے اور 1950 تک چلتا ہے۔
پہلے تین ادوار کا تعلق مُصنفہ کے نظریہ تہذیب اور تاریخی بنیادوں سے ہے۔ اِس نظریاتی حصّے کی اہمیت اپنی جگہ لیکن کتاب کا آخری اور چوتھا دور بذاتِ خود ایک مکمل ناول ہے جو بیسویں صدی کے نصف اوّل میں ابھرنے والی سیاسی اور سماجی تحریکوں کی روشنی میں کرداروں کی زندگی کا جائزہ لیتا ہوا ہمیں تقسیمِ ہند (1947) کے مرحلے تک لے آتا ہے۔
اس ناول میں جنم جنم کے پھیرے کرداروں کا مقّدر ہیں۔
ادھیڑ عمر میں پہنچ کر وہ طوائفوں کی چودھرائن بن جاتی ہے اور آخری عمر میں بھکارن بن کر اسی ریلوے سٹیشن پر بھیک مانگتی ہے جہاں وہ گوتم دت کی راہ تکا کرتی تھی۔
آخری دور کی چمپا احمد ایک مسلم لیگی وکیل کی بیٹی ہے۔ وہ بھی اپنے دور کے گوتم نیلمبر سے پیار کرتی ہے لیکن اسے پا نہیں سکتی۔ انگلستان میں قیام کے دوران اسے مسٹر ایشلے سے بھی پیار ہوجاتا ہے لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہوتا۔ آخر کار وہ اپنے آبائی گھر بنارس چلی آتی ہے۔
چمپا کا نام ہر دور میں تھوڑا سے تبدیل ہوجاتا ہے:
ڈھائی ہزار سال پہلے وہ چمپک تھی۔ اسلامی دور میں چمپا وتی ہوگئی۔ اودھ میں اسکا تیسرا دور شروع ہوا تو وہ چمپا جان بن کر ابھری اور آخری دور میں چمپا احمد ہوگئی۔
اسی طرح منصور کمال ایک طالع آزما قافلے کے ساتھ نیشا پور سے ہندوستان آتا ہے، جون پور کے دربار میں مترجم کے طور پر کام کرنے لگتا ہے اور چمپا وتی کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
چوتھی کہانی کا کمال کیمبرج سے واپس لکھنؤ آتا ہے تو وہاں سب کچھ اُجڑ چکا ہے۔ خاندان کی تمام پراپرٹی کو متروکہ جائیداد قرار دے دیا گیا ہے۔ لُٹا پٹا کمال پاکستان کی راہ لیتا ہے۔
ڈھائی ہزار سال پہ محیط اس کہانی کو سنبھالنا کسی عام لکھاری کے بس کی بات نہ تھی۔ اسکے لئے قرۃالعین جیسا لیکھک ہی درکار تھا جسےسر زمینِ ہندوستان کی سیاسی اور ثقافتی تاریخ ہی ازبر نہیں تھی بلکہ فِکشن میں اس تاریخ کو ایک پس منظر کے طور پر برتنے کا سلیقہ بھی آتا تھا۔
قرۃالعین کاہندوستان ایک مضبوط ثقافتی اکائی ہے اور باہر سے آنے والے کلچر اس کی رنگا رنگی میں صرف اضافہ ہی کرتے رہے ہیں۔
ثقافتی تنوع کا یہ نظریہ اس لحاظ سے تو نیا نہیں کہ جواہرلال نہرو اور رابندرناتھ ٹیگور پہلے ہی اس پر تفصیل سے اظہارِ خیال کر چکے ہیں لیکن ایک اہم ناول کے نظریاتی تار و پود میں یہ تھِیم پہلی مرتبہ اس وضاحت کے ساتھ استعمال کی گئی ہے۔
قرۃالعین نے یہ ناول 1957 میں لکھنا شروع کیا تھا اور اسکی اشاعت دو برس بعد ممکن ہوئی۔ دو قومی نظریے کے حامی ادیبوں اور نقادوں کے لئے آگ کا دریا ہمیشہ ایک ناخوشگوار ادبی واقعہ رہا ہے لیکن اسکے فنّی محاسن پر داد دینے میں کبھی کنجوسی نہیں برتی گئی۔
مرحومہ نے یہ ناول تیس برس کی عمر میں لکھ ڈالا تھا۔ بہّتر سال کی عمر میں جب خود اسکا انگریزی ترجمہ کیا تو انہیں کردار نگاری اور بعض تفصیلات میں سقم نظر آئے چنانچہ 1998 میں شائع ہونے والا River of fire۔ اس ناول کا ایک بہتر اور زیادہ موثر روپ قرار دیا جا سکتا ہے۔