Monday, 13 August, 2007, 13:45 GMT 18:45 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
بالی وڈ فلمسازوں کے لیے اب پاکستان ایک نیا اور منافع بخش بازار بن کر سامنے آیا ہے۔ فلم ’آوارہ پن‘ اور ’قافلہ‘ کی نمائش کے بعد بیشتر فلمسازوں نے اوورسیز ملکوں کی فہرست میں پاکستان کو اول نمبر پر رکھا ہے۔
یہ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام میں بالی وڈ فلمیں ہردلعزیز ہیں لیکن پاکستان میں بالی وڈ فلموں کوسنیما گھروں میں نمائش کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں فلموں کی نقلی ڈی وی ڈی کی فروخت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور لوگ گھروں میں فلمیں دیکھ لیتے ہیں۔ فلموں کی پائیریسی کو روکنے اور منافع کو بڑھانے کے لیے بالی وڈ فلمسازوں نے اپنی فلموں کو پاکستان کے سنیما گھروں تک لانے کی جدوجہد شروع کر دی ہے۔
بالی وڈ فلموں کی نمائش سے متعلق پاکستانی سینسر بورڈ کے قوانین بہت سخت ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عوام اور دم توڑتے کئی سنیما گھروں کے مالکان کے پرزور مطالبے کے باوجود بالی وڈ فلموں کو نمائش کی اجازت نہیں ملی۔
مہیش کہتے ہیں ’انڈیا کے بعد پاکستان بالی وڈ کے لیے سب سی بڑی مارکیٹ ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں چھ سے سات کروڑ ناظرین ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر دونوں ممالک مل کر مشترکہ طور پر فلمیں بنائیں تو فائدہ دونوں انڈسٹری کو ہو گا‘۔
فلمساز اور ہدایت کار امتوج مان کی فلم ’قافلہ‘ چونکہ کینیڈین پروڈکشن کمپنی بنا رہی ہے اس لیے اس فلم کو پاکستان میں نمائش کی اجازت مل گئی ہے لیکن مان اس بات سے متفق ہیں کہ دونوں ممالک کو فلمیں اشتراک کے ساتھ بنانی چاہیے۔ ’ہمارا کینوس وسیع ہو گا اور پاکستانی فلم انڈسٹری کو آج نہیں لیکن کچھ عرصہ بعد اس کا فائدہ ملے گا۔ ان کی ختم ہوتی فلمی صنعت دوبارہ جی اٹھے گی‘۔
امریکہ، برطانیہ اور خلیجی ممالک میں چند سپر سٹارز کی فلمیں ہی چلتی ہیں جن میں شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر اور سیف کے علاوہ امیتابھ بچن کے نام قابل ذکر ہیں لیکن دیگر سٹارز کی فلمیں وہاں بالکل کاروبار نہیں کر پاتی ہیں۔ مان کہتے ہیں ’آخر ہم اپنے ہالی وڈ کی نقل کیوں کرتے ہیں اگر ہم اپنی تہذیب، اپنے مسائل کو لے کر فلمیں بنائیں تو یہ فلمیں دونوں ممالک میں اچھا کاروبار کریں گی اور انڈسٹری کو اس کا فائدہ ہو گا‘۔