http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 21 May, 2007, 11:34 GMT 16:34 PST

رفیہ ریاض
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

فلمیں پشتو کی، لڑکیاں پنجابن

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان فلم انڈسٹری اردو فلموں کے سہارے چلتی تھی پھر تعداد کے اعتبار سے پنجابی فلموں نے اردو فلموں کو پیچھے چھوڑ دیا اور اب پشتو فلموں نے پنجابی فلموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان فلموں کی صرف زبان پشتو ہے جبکہ ہیروئنیں پنجابی ہیں۔ صوبہ سرحد اور کراچی کے بازاروں میں آپ کو پشتو سی ڈی ڈراموں میں تو پٹھان اداکارائیں مل جائیں گی لیکن فلمی دنیا کے دروازے ان پر بند ہیں۔کیوں بند ہیں؟ یہی سوال لے کر میں پہلے پشاور اور پھر لاہور گئی ۔

پشاور میں رہنے والی اداکارہ ریما کوسی ڈی ڈراموں اور سٹیج پر کام کرنے میں قطعاً اعتراض نہیں۔ لیکن جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ فلموں میں کام کرنے سے کیوں ہچکچاتی ہیں تو وہ بہت دیر تک سوچتی رہیں اور پھر کہنے لگیں کہ ’ فلموں کے پروڈیوسر کہتے ہیں کہ پینٹ شرٹ پہنو اور میں یہ چیزیں نہیں پہن سکتی۔میرا تو خیال ہے کہ یہ لوگ پشتو ثقافت کو سمجھتے ہی نہیں۔لہذا اپنے فلمی ارمان پنجابی اداکاراؤں کو پینٹ شرٹ اور بغیر آستینوں کی قمیض پہنا کر پورے کرتے ہیں ۔میں ایسا نہیں کر سکتی۔ اگر آپ کو یاد ہو کہ پہلے پہلے یا سمین خان کی فلمیں کتنی سپرہٹ تھیں میں سمجھتی ہوں کہ ویسا ہی سادہ لباس ہونا چاہیے اگر یہ فحش سین نہ فلمائیں تو ہم سب لڑکیاں کام کرنے کے لیے تیار ہیں مگر یہ لوگ چاہتے ہی نہیں کہ پشتون لڑکیاں اس میدان میں آئیں۔،

پشاور میں پشتو موسیقی اور ڈراموں کی سی ڈیز کہیں ملیں نہ ملیں نشتر آباد میں ضرور ملیں گی ۔یہاں سی ڈی ڈراموں کے ایک معروف پروڈ یوسر مسافر خان سے سامنا ہوا۔مسافر خان نے یہ کہہ کر مجھےمزید حیران کردیا کہ آپ تو فلموں کی بات کرتی ہیں ہم تو اب سی ڈی ڈراموں میں بھی لاہور کی اداکاراؤں کو کاسٹ کرنے لگے ہیں۔ مسافر خان کا کہنا تھا کہ پشاور میں چار پانچ پشتون لڑکیاں ہیں جن کے نخرے بہت ہوگئے تھے کیونکہ ان میں سے ہرلڑکی چار پانچ ڈرامے اکٹھے سائن کر لیتی ہے اورہمیں مناسب ٹائم نہیں دیتی۔ اس لیے ہم نے لاہور سے لڑکیاں سائن کی ہیں تاکہ ان لڑکیوں کا غرور ٹوٹ جائے بعد میں ہم ان لڑکیوں پر ڈبنگ کر لیتے ہیں۔،

مسافر خان کی بات سن کر میں نے فیصلہ کیا کہ لاہور جائے بغیر بات نہیں بنے گی۔کیونکہ پشتو فلموں کے سرکردہ ڈائریکٹر، ہیرو، ہیرؤنیں اور دیگر تکنیکی عملہ وہاں ہونے کے سبب تصویر کا دوسرا رخ بھی وہیں پر مل سکتا ہے۔

فلمساز و ہدایت کار نسیم خان کے دفتر میں میری ملاقات پشتو فلموں کی مشہور ہیروئن شہناز بیگم سے ہوئی ۔وہ ایبٹ آباد میں شوٹنگ کے بعد میری درخواست پر چند گھنٹے پہلے ہی لاہور پہنچی تھیں۔پوری ملاقات کے دوران انکے دائیں ہاتھ میں بالوں کا برش رہا ( اللہ جانے کیوں)۔ شہناز کو بھی یہی گلہ تھا کہ لاہور تھیٹرکی جو نئی لڑکیاں فلموں کا رخ کررہی ہیں وہ پشتو زبان سے ناآشنا ہیں یہی وجہ ہے کہ کام حاصل کرنے کے لیے وہ ہر قسم کے سین کرنے پر راضی ہو جاتی ہیں۔

شہناز خان کے بقول ’ آج تک پشتو فلموں میں جتنی بھی آرٹسٹ آئی ہیں ان میں میرے علاوہ صرف یاسمین خان اور ثریا پشتو بولنے والی تھیں اور جب ہم فلم انڈسٹری میں آئی تھیں تو ہمیشہ ٹوپی والے برقعے پہنتی تھیں ۔پشاور میں تو برقعے کے بغیر ہم پھرتے ہی نہیں تھے اور شاپنگ بھی برقعے میں کرتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں بھی لوگ آج تک ہماری عزت کرتے ہیں۔ ہمیں اس زمانے میں تھیٹر میں کام کرنے کی بھی پیش کش ہوتی تھی ۔لیکن ہم صاف انکار کردیتے تھے۔کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ مقامی لوگ ہم پر آوازے کسیں۔تھیٹر کے برعکس ہم فلم میں کام کرنے کو اس لیے ترجیح دیتے تھے کیونکہ شوٹنگ میں صرف فلمی یونٹ ہی حصہ لیتا ہے اور سب ایک دوسرے کا مزاج سمجھتے ہیں۔مگر جب سے پشتو فلموں میں پنجابی اور اردو بولنے والی آرٹسٹ آئی ہیں تو چونکہ ان کی زبان ہی پشتو نہیں ہے اس لیے ان کے پاس اور تو کچھ کرنے کو ہے ہی نہیں لہذا وہ نہ صرف ہر جگہ اور ہر سچویشن میں ڈھل جاتی ہیں بلکہ انہیں بولڈ سین کرکے خود کو ِان رکھنا بھی آتا ہے۔یہ وہ کام ہے جو ہم جیسوں سے نہیں ہوتا۔”

پشتون سماج میں فلموں میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے آصف خان کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقے میں فلم میں کام کرنے والوں کو کنجر کہا جاتا ہے حلانکہ یہ فائن آرٹس ہے لیکن ہم کس کس کو سمجھائیں۔یہ وہ ذہنیت ہے جو نئے ٹیلنٹ کے ابھار میں ایک بنیادی رکاوٹ بنتی ہے اور زیادہ تر لوگ ان رکاوٹوں کو نہیں پھلانگ پاتے۔

نسیم خان ایور نیو سٹوڈیو میں گزشتہ پنتیس سال سے پشتو فلموں کے پروڈیوسر ہیں ان کا کہنا ہے کہ فلموں میں فحاشی کے وہ بھی خلاف ہیں اور انہوں نے اس ٹرینڈ کو بدلنے کی خاطر سماجی موضوعات پر متعدد سنجیدہ فلمیں بنائی ہیں۔ مگر نئی پٹھان لڑکیوں کوچانس دے کر آج کے پشتون سماج سے ٹکر لینا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔

’میں تو پشتون معاشرے میں نئی لڑکی کو چانس دینے کا سوچ ہی نہیں سکتا۔ خدا نخواستہ اس کا تعلق کسی کٹر پٹھان گھرانے سے ہو تو ہم بڑی مشکل سے دوچار ہو سکتے ہیں۔اس لیے ڈر کی وجہ سے ہی ہم ان کو چانس نہیں دیتے ۔اگر کسی لڑکی کے ساتھ کوئی بڑا آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ تو اگر اس کے بھائی بند بندوق لے کر آگئے تو ہمارا کیا بنے گا۔،

میں ایورنیو سٹوڈیو میں نسیم خان کے دفتر سے نکلتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ دنیا میں ایسی کون سی دوسری فلم انڈسٹری ہوگی جہاں جس زبان میں فلمیں بنیں اسکے اداکار اس زبان سے اتنے نابلد ہوں کہ اپنے ہی ادا کردہ مکالموں کا مطلب نہ بتا سکیں اور پھر بھی سپر ہٹ کہلائیں۔ واقعی پاکستان معجزوں کی سرزمین ہے۔