Thursday, 12 April, 2007, 11:43 GMT 16:43 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
بالی وڈ کے اداکار سنجے دت کی زندگی پران کے قریبی دوست اور فلم ہدایت کار سنجے گپتا کتاب لکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کتاب کی اشاعت کے بعد اس پر فلم بھی بنائی جائے گی۔
ایسا نہیں ہے کہ کسی فلمی ہستی پر پہلی مرتبہ کوئی کتاب لکھی جا رہی ہو۔ حال ہی میں ہیما مالنی کی زندگی پر کتاب لکھی گئی۔ بالی وڈ شہنشاہ امیتابھ بچن پر اب تک کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور کچھ مداح ان پر آج بھی کتاب لکھ رہے ہیں۔ شاہ رخ خان کی روزمرہ زندگی کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی اور ان کی زندگی پر ایک فلم بھی بنائی جا چکی ہے۔
لیکن سنجے دت کی زندگی میں شروع سے آخر تک بہت سے اتار چڑھاؤ آئے ہیں جو کسی اچھی فلم کا سکرپٹ ہو سکتا ہے۔ سنجے گپتا کا کہنا ہے کہ کتاب لکھنے اور فلم بنانے کا خیال ان کے دل میں بہت پہلے سے تھا اور اس پر وہ کافی عرصہ سے کام بھی کر رہے تھے۔
گپتا کے مطابق کتاب لکھنا ان کے بس کی بات نہیں ہے اور یہ کام وہ کسی پروفیشنل سے ہی کروائیں گے۔ ان کے ذہن میں چند نام ہیں اور جلد ہی وہ کسی ایک کے ذمہ یہ کام سپرد کر دیں گے۔
گپتا کے مطابق سنجے دت بچپن میں بہت شریر تھے۔ پھر جوانی کا دور ان کا بہت پر آزمائش دور تھا، اس دوارن وہ منشیات کے عادی ہو گئے۔ ان کے والد جو فلم انڈسٹری کے ایک مایہ ناز اداکار رہ چکے ہیں، انہوں نے کس طرح اپنے بیٹے کو اس لت سے چھڑانے کے لیے جدوجہد کی۔ اس کے بعد دت کا فلمی کرئیر اور اس کے بعد ایک طویل قانونی جنگ لڑی۔ انہیں انیس سو ترانوے بم دھماکہ کیس میں ٹاڈا کے تحت گرفتار کر کے جیل بھی بھیجا چکا ہے۔ جیل میں انہوں
نے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزارا ہے۔
![]() | |
| سنجے کو انیس سو ترانوے بم دھماکہ کیس میں ٹاڈا کے تحت گرفتار کر کے جیل بھی بھیجا چکا ہے |
کتاب لکھے جانے کے بعد سنجے دت اور سنجے گپتا کی مشترکہ فلم کمپنی ’وائٹ فیدر‘ سنجے دت پر فلم بنائے گی۔ یہ فلم تین گھنٹوں پر مشتمل ہو گی۔
سنجےگپتا کا کہنا ہے کہ دت کی زندگی کو تین گھنٹوں میں سمیٹنا مشکل
ہے۔ کتاب ان کی زندگی کو سمیٹنے کے قابل ہے اور اسی لیے کتاب کے لکھے جانے کے بعد وہ اسی بنیاد پر فلم بنائیں گے۔
دت بالی وڈ کے نامور اداکار ہیں۔ حال ہی میں ان کی فلم ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ اور اس کا سیکوئیل ’لگے رہو منا بھائی‘ نے بالی وڈ میں ایک تاریخ رقم
کر دی۔ وہ فی الحال اپنی کئی فلموں کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ ان پر انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں میں ممنوعہ علاقے میں آتشی اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔ انیس اپریل سے عدالت ملزمان کو سزا سنانا شروع کرے گی۔