Wednesday, 21 March, 2007, 12:17 GMT 17:17 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
ورلڈ تھیٹر ڈے پر ممبئی میں ہونے والے ڈرامہ فیسٹیول میں اردو یا ہندوستانی کے ڈراموں کو شامل نہیں کیا جا رہا۔
یہ فیسٹیول ممبئی یونیورسٹی کی اکیڈمی آف تھیٹر کا آرٹس ڈپارٹمنٹ منا رہا ہے۔ ڈرامہ شائقین کے لیے یہ موقع کسی نعمت سے کم نہیں ہو گا کیونکہ اس فیسٹیول میں ملک کی مختلف زبانوں کے شہرہ آفاق ڈرامے سٹیج کیے جا رہے ہیں۔
بائیس مارچ سے شروع ہو کر گیارہ روز تک چلنے والے اس’وسنت ناٹیہ اتسو‘ فیسٹیول کا افتتاح نامور اداکار نصیرالدین شاہ اور انوپم کھیر کے ہاتھوں ہو گا۔
ممبئی یونیورسٹی کے تحت گزشتہ دو برسوں سے یہ فیسٹیول منایا جاتا ہے۔ دہلی کی طرز پر تین سال قبل ممبئی یونیورسٹی میں ڈراما اور تھیٹر کے تربیتی کورس کے لیے ایک شعبہ کی تشکیل ہوئی ہے اور دو سال کا گریجویٹ کورس شروع کیاگیا ہے۔ اس شعبہ کے صدر وامن کیندرے ہیں۔
اردو اور ہندوستانی کیوں نہیں |
فسیٹول کا آغاز منی پور کے مشہور ہدایت کار رتن تھیم کے شہرہ آفاق ’چکر ویو‘ سے ہو گا۔ اس کے بعد دہلی سے نیشنل سکول آف ڈرامہ اپنے دو ڈرامے پیش کرے گا جس میں ’رام نام ستیہ ہے‘ اور ’شارٹ کٹ‘ شامل ہیں۔
جنوبی ہند کے کنڑ زبان کے مایہ ناز ہدایت کار کمار ورما کا ڈرامہ ’مایا سیتا پرسنگ‘ پیش کیا جائے گا۔ مسٹر کیندرے بھی اس فیسٹیول میں اپنا ڈرامہ ’جان من‘ پیش کریں گے۔
ملک کے دیگر حصوں کے علاوہ ممبئی مہاراشٹر سے مراٹھی، ہندی کے علاوہ سنسکرت زبان کے ڈرامے بھی فیسٹیول کا حصہ ہوں گے۔ اس فیسٹیول میں اردو یا ہندوستانی کے ڈراموں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
![]() | |
| فیسٹیول میں پیش کیے جانے والے ایک مراٹھی ڈرامے کا منظر |
مسٹر کیندرے نے البتہ اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل انہوں نے فیسٹیول میں ان دو زبانوں کے ڈراموں کو موقع دیا تھا لیکن اس سال ملک کی دیگر زبانوں کے ڈراموں کو شامل کرنے کی وجہ سے ان زبانوں کو موقع نہیں مل سکا ہے۔
انڈیا میں ڈرامہ اور تھیٹر گروپ کو ہمیشہ مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک اہم وجہ ہے کہ لوگ ٹکٹ لے کر ڈرامہ دیکھنے کم ہی آتے ہیں۔ اس فیسٹیول کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شائقین مفت میں یہ ڈرامے دیکھ سکیں گے۔