http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 13 March, 2007, 00:51 GMT 05:51 PST

ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی

ڈھولکیا: گجرات کے بعد کشمیر

گجرات فسادات پر فلم ’پرزانیہ‘ بنانے کے بعد اب ہدایت کار راہول ڈھولکیا کشمیرپر فلم بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس وقت امریکہ میں موجود ڈھولکیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ کشمیر پر فلم بنانے کے

پرزانیہ: گجرات کے فسادات پر مبنی فلم

لیے ریسرچ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے۔ ان کے دل دماغ میں کشمیر کی وادیوں اور وہاں کے لوگوں کے مسائل پر فلم بنانے کا خیال اس وقت آیا جب ان کی ملاقات چند کشمیری طلباء سے ہوئی۔ ان کے ساتھ طویل گفتگو ہوئی اور اس دوران ان کے کرب کا انداز ہوا‘۔

مسٹر ڈھولکیا کہتے ہیں کہ ان طلباء نے بتایا کہ ان جیسے تمام کشمیریوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں ان کا اپنا خطہ دے دیا جائے جس پر انڈیا یا پاکستان کا عمل دخل نہ ہو۔ ڈھولکیا کے مطابق کشمیری خود کو انڈیا یا پاکستان کا حصہ ہی نہیں سمجھتے۔

انہوں نے بتایا ’مجھے اس وقت بہت افسوس ہوا جب انہوں نے کہا کہ آج وہ اپنے ہی گھر میں خود کو اجنبی اور بیگانہ محسوس کرتے ہیں اور لگتا ہے کہ ان کا اپنا کوئی ملک نہیں ہے‘۔

کشمیر کے موضوع پر بالی وڈ میں درجنوں فلمیں بنی ہیں۔ حال ہی میں بنی فلم مشن کشمیر بنی تھی جس میں سنجے دت اور رتیک روشن نے کام کیا تھا۔ اس کے بعد جمی شیرگل اور منیشا لامبا کے فلم ’یہاں‘ بنی۔ لیکن کُنال کوہلی کی ہدایت میں بنی فلم ’فنا‘ میں کشمیریوں کے تئیں پہلی مرتبہ ہمدردانہ رویہ رکھا گیا۔ فلم میں چند مکالموں کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے اور یہ مکالمے فلم میں اداکارہ تبو کی زبان سے کہلوائے گئے ہیں۔
نصیر الدین شاہ
فلم مرزانیہ میں نصیرالدین شاہ نے دارا مودی کا کردار نبھایا ہے
ڈھولکیا کی فلم بھی شاید اسی پس منظر میں ہو۔ انہوں نے فلم کے بارے میں زیادہ کچھ بتانے سے انکار کر دیا ’ابھی کچھ کہنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ فلم ابھی ابتدائی مراحل میں ہے‘۔

ڈھولکیا البتہ اس طرح کی فلم نہیں بنانا چاہتے جس میں سیاست کا عمل دخل دکھایا گیا ہو۔ وہ کہتے ہیں ’میں فلم میں ان کشمیریوں کا درد دکھانا چاہوں گا۔ انسانی کہانیاں جو خود بخود آپ کو ایک پیغام دیں گی اور آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے‘۔

ڈھولکیا کی فلم ’پرزانیہ‘ حالانکہ گجرات فسادات پر مبنی فلم ہے لیکن اس فلم میں بھی انہوں نے گلبرگ سوسائٹی کے ایک ہی خاندان کی کہانی دکھائی ہے۔ اس کہانی کے ذریعہ فلم با آسانی ان حالات اور واقعات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ ان کی یہ فلم آج بھی گجرات میں نمائش کے لیے نہیں پیش ہو سکی۔

ڈھولکیا کے مطابق وہ کشمیر پر فلم بنانے سے پہلے اس پر کافی ریسرچ کریں گے۔ ’پرزانیہ بنانے کے لیے پانچ سال ریسرچ کی تو پتہ نہیں کشمیر پر فلم بنانے کے لیے کتنے سال کی ریسرچ ہوگی لیکن میں یہ کام بہت جلد ختم کرنا چاہوں گا‘۔