Sunday, 25 February, 2007, 15:02 GMT 20:02 PST
بالی ووڈ کی روایتی روش سے ہٹ کر مختلف موضوع پر مبنی راکیش اوم پرکاش مہرا کی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کو اس سال کے فلم فیئر ایوارڈز میں سب سے بہترین فلم منتخب کیا گيا ہے۔
’رنگ دے بسنتی‘ نے کل پانچ انعام حاصل کیے ہیں اور اس میں بہترین ہدایت کار کا انعام بھی شامل ہے۔
اپنی فلم دھوم۔دو سے جواں دلوں میں دھوم مچانے والے رتیک روشن کو اس سال کے فلم فیئر ایواڑ میں سب سے بہتریں اداکار کے خطاب سے نوازا گیا ہے جبکہ ادکاراؤں میں یہ سہرا فلم ’ فنا‘ سے فلموں ميں دوبارہ واپسی کرنے والی اداکارہ کاجول کے سر بندھا۔
گزشتہ برس مختلف وجوہات کی بنا پر خبروں میں رہنے والے ابھیشیک بچن کو ’کبھی الوداع نہ کہنا‘ کے لیے بہترین معاون اداکار کا انعام دیا گیا۔
شیکسپئر کے ڈرامے ’اوتھیلو‘ سے متاثر وشال بھردواج کی ’اومکارہ‘ کو آٹھ اور گاندھی گیری کا سبق سکھانے والی فلم ’لگے رہو منا بھا ئی‘ کو پانچ فلم فیئر انعام ملے۔
سنیچر کی رات ممبئی کے یشراج اسٹوڈیو میں منعقدہ ایک رنگارنگ پروگرام ميں بانوے ایوارڈز کا اعلان کیا گیا۔ ’رنگ دے بسنتی‘ کو سب سے بہترین فلم کے ساتھ ساتھ سب سے بہترین ہدایت کاری، موسیقی، فوٹوگرافی، اور تدوین کا انعام بھی ملا۔
’اومکارہ‘ میں لنگڑا تیاگی کا کردار ادا کرنے پر سیف علی خان کو منفی کردار میں بہترین اداکار قرار دیا گیا جبکہ ’فنا‘ فلم کے نغمے ’چاند سفارش جو کرتا تمہاری‘ کے لیے پرسون جوشی کو سب سے بہترین نغمہ نگار کا انعام دیا گيا۔
رنگ دے بسنتی میں بہتریں موسیقی دینے والے اے آر رحمن کو بہترین موسیقار کا ایوارڈ ملا۔
جیا بچن اور نغمہ نگار جاوید اختر کو سنیما کے فروغ میں بہترین کردار نبھانے کے لیے ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ دیا گیا۔ سال کے بہترین چہرے اور نیو ٹیلنٹ کا انعام فلم ’گینگسٹر‘ کے ذریعے فلم نگری میں قدم رکھنے والی اداکارہ کنگنا رناوت کو دیا گیا۔ ’لگے رہو منا بھائی‘میں ایک بار پھر سرکٹ کے کردار سے شائقین کو ہنسانے والے ارشد وارثی کو بہترین مزاحیہ اداکار قرار دیا گیا۔
فلم فیئر ایوارڈز کے پروگرام کی میزبانی شاہ رخ خان نے کی اور اس سلسلے میں جوہی چاؤلہ ، لارا دتہ اور پریتی زنٹا نے باری باری ان کا ساتھ دیا۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ اتوار کو ایک ٹی وی چینل پر نشر کی جائے گی۔