Thursday, 15 February, 2007, 12:51 GMT 17:51 PST
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہالی وڈ کی معروف اداکارہ و گلوکارہ جنیفر لوپیز کو میکسیکو کے سرحدی شہر سیودتھ شوریز میں نوجوان لڑکیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعات پر مبنی فلم بنانے پر ’آرٹسٹ فار ایمنسٹی‘ ایوارڈ دیا ہے۔
بارڈر ٹاؤن نامی فلم میں لوپیز نے ایک ایسے صحافی کا کردار ادا کیا ہے جو سیودتھ شوریز میں ہونے والے جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کی رپورٹنگ کرتی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لوپیز کو ایوارڈ ان کی فلم کے ’برلن فلم فیسٹول‘ میں نمائش سے پہلے دیا ہے۔ جنیفر لوپیز کو یہ ایوارڈ مشرقی تیمور کے وزیر اعظم جوز راماوز ہورتا نے دیا، جو خود نوبل انعام یافتہ شخصیت ہیں۔
کوئی بھی نہیں جانتا کہ سیودتھ شوریز میں انیس سو ترانوے میں شروع ہونے والے جنسی زیادتی اور ہلاکتوں کے واقعات کا شکار کتنے لوگ ہوئے، لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ تعداد چار سو سے زیادہ ہے۔
ہر گرفتاری یا سزا کے بعد اگرچہ پولیس اطمینان کا اظہار کرتی ہے، لیکن ان واقعات میں پھر بھی کوئی کمی نہیں آ رہی۔
لوپیز کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے زیادہ اندوہناک اور افسوسناک صورتحال ہے، لیکن انسانیت کے خلاف ان جرائم کے بارے میں بہت کم لکھا جا رہا ہے۔
برلن میں ہونے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تقریب میں سیودتھ شوریز کی نورما اندرادے بھی موجود تھیں جن کی سترہ سالہ بیٹی کو سال دو ہزار ایک میں قتل کر دیا گیا تھا۔
بیٹی کے قتل کے بعد نورما نے سیودتھ شوریز میں تشدد کا شکار لڑکیوں کی قانونی مدد کے لیے ایک تنظیم قائم کی ہے۔ ان کے بارے میں لوپیز کا کہنا تھا کہ وہ مثالی کردار والی ایک شاندار خاتون ہیں۔
فلم ’بارڈر ٹاؤن‘ میں لوپیز کے علاوہ انتونیو بیندرس اور مارٹن شین نے بھی کام کیا ہے۔ سینما گھروں میں اس فلم کی نمائش کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں ہوا۔