Thursday, 08 February, 2007, 15:33 GMT 20:33 PST
عراق کے بارے میں فلمیں بنانے والے دو فلمسازوں کو اس سال کی بہترین دستاویزی فلموں کی حتمی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ان دونوں فلموں میں عراق میں عام لوگوں کی روز مرہ کی زندگیوں کی کہانی دکھائی گئی ہے۔
’عراق اِن فریگمنٹس‘ نامی فلم میں جیمز لانگلی نے اس جنگ زدہ ملک کے حالات کو مختلف افراد کے نکتہ نظر سے دکھایا ہے۔ ان افراد میں بغداد میں رہنے والا ایک گیارہ سالہ یتیم لڑکا، آزادی کے لیے لڑنے والے کچھ کرد اور نصریہ اور نجف میں مقتدی الصدر کے کئی حامی شامل ہیں۔
امریکہ کی ریاست اوریگون سے تعلق رکھنے والے فلمساز جیمز لانگلی نے اس ڈاکیومنٹری کو فلمانے کے لیے عراق میں دو سال گزارے۔ انہوں نے شعیہ، سنی اور کرد افراد کی فلم بنائی اور آخر میں ان کے پاس تین سو گھنٹوں سے زیادہ کی فلم فٹیج تھی۔
![]() | |
| ’مائی کنٹری، مائی کنٹری‘ میں ابو غریب جیل کو دکھایا گیا ہے |
اگرچہ لانگلی اور پوائتراس کی فلموں میں عراق پر قابض افواج کے لیے ناراضگی دکھائی گئی ہے لیکن دونوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد حالات کو ریکارڈ کرنا ہے کسی قسم کی نئی بحث شروع کرنا نہیں ہے۔
لانگلی کا کہنا ہے کہ ’میں کوئی مائیکل مور نہیں ہوں۔ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔‘
پوائتراس کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ ہماری فلمیں دیکھیں گے تو آپ کو اس ملک کے متعلق عام نیوز کوریج سے زیادہ سمجھ آئے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امریکہ میں بیٹھے ہوئے یہ پتہ نہیں چلتا کہ عام عراقی اپنے ملک کے متعلق کیا چاہتے ہیں اور انہیں کس قسم کے حالات درپیش ہیں۔‘