Friday, 12 January, 2007, 08:44 GMT 13:44 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاپ میوزک کے بڑھتے ہوئے رحجان اور نوجوان طبقے میں اس کی مقبولیت کی وجہ سے پشتو موسیقی کا شہنشاہ کہلانے والے آلۂ موسیقی ’رُباب‘ کا استعمال وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتا جارہا ہے۔
رُباب بلاشبہ پشتو موسیقی کا ایک اہم اور مشکل ترین فن ہے۔ یہ ایک ایسا آلۂ موسیقی ہے جس کا ذکر پشتو زبان کے مشہور اور مانے ہوئے شعراء اور ادباء نے اپنی اپنی کتابوں میں کثرت سے کیا ہے۔ رباب گٹار سے ملتا جلتا آلۂ موسیقی ہے لیکن دونوں کی آواز اور شکل میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
رباب کس زبان کا لفظ ہے اور اس کے کیا معنی ہیں؟ اس کے بارے میں پشتو کے نامی گرامی شاعروں اور ادیبوں کی الگ الگ رائے ہے۔ زیادہ تر محققین کا کہنا ہے کہ رباب عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کی ابتداء عرب ممالک سے ہوئی۔ تاہم بعد میں پشتونوں نے اس ساز کو اپنا لیا۔
پشاور میں کئی سالوں سے مقیم اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے رباب کے استاد غلام سخی کا کا موقف کچھ الگ ہے۔ ان کے بقول رباب عربی زبان کا لفظ ہے جو دوالفاظ ’روح اور باب‘ سے نکلا ہے جس کے معنی روح کا دروازہ ہیں۔
بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں رباب کی ابتداء افغانستان سے ہوئی۔
مشہور پشتو گائیک سردار علی ٹکر کے مطابق رباب فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کی ابتداء ایران سے ہوئی۔ان کے مطابق پشتون رباب کو اپنا ساز مانتے ہیں۔ درحقیقت یہ ان کا ساز نہیں ہے بلکہ یہ انہوں نے بعد میں اپنا لیا تھا۔
رباب کو پشتو موسیقی میں بلاشبہ ایک فن کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کو پشتو موسیقی کا شہنشاہ بھی کہتے ہیں لیکن موجودہ دور میں پاپ میوزک کے بڑھتے ہوئے رحجان اور بالخصوص نوجوان نسل میں اس کی مقبولیت نے روایتی موسیقی کے آلات کے استعمال میں بھی کم کردی ہے۔
رباب کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ رباب سیکھنا ایک نہایت ہی مشکل فن ہے۔ اس کی وجہ اس میں تاروں کی بڑی تعداد ہے۔ رباب کے مقابلے میں گٹار اور ستار میں تین یا پانچ تار ہوتے ہیں اس لیے یہ دونوں آلات سیکھنے میں بھی آسان ہے۔
رباب کو بجانے سے قبل اسے سُر میں لانا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ بغیر سُر کے یہ نہیں بجتا اور جب اس کو اچھے طریقے سے سُر کیا جاتا ہے پھر اس سے سریلی اور تیز آواز نکلتی ہے۔
سردار علی ٹکر جو خود رباب جانتے بھی ہیں اور انہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم بھی حاصل کی ہوئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ’رباب کو سُر میں لانا ایک سائینٹیفک عمل ہے۔ اس میں جو چھوٹے تار ہوتے ہیں جس کو پشتو میں ’بچے‘ کہتے ہیں اس کو بڑے تاروں سے جوڑنا پڑتا ہے۔ اس کا بجانا بھی شاید اس لیے مشکل ہے کیونکہ اس کے پردے بنانے پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس دیگر آلاتِ موسیقی مثلاً ہارمونیم وغیرہ میں پردے پہلے سے بنے ہوئے ہوتے ہیں‘۔
پروفیسر ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک کا کہنا ہے کہ پشتون موسیقی پسند تو کرتے ہیں لیکن موسیقاروں اور فنکاروں سے نفرت کرتے ہیں۔ رباب واحد آلۂ موسیقی ہے جس کا بجانا پشتون معاشرے میں برا نہیں سمجھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے پشتونوں کے حجروں اور محفلوں میں رباب بڑے شوق سے بجایا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ روایت اب کم ہوتی جارہی ہے لیکن آج بھی اگر اس طرح کی محفلیں منعقد کی جائیں تو لوگ اس کو برا نہیں سمجھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ثقافتی تبدیلی اور پشتونوں کی اپنی ثقافت سے لاعلمی کی وجہ سے روایتی آلاتِ موسیقی کے استعمال میں کمی آ رہی ہے۔ پروفیسر راج ولی شاہ نے مزید بتایا کہ ’اگر ہم نے اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ نہیں کیا تو آئندہ چند سالوں میں رباب جیسے پشتو موسیقی کا دل کہلانے والے ان الات کا وجود ہی ختم ہوجائے گا‘۔