Friday, 22 December, 2006, 08:05 GMT 13:05 PST
چین کے فلم شائقین میں آج کل ایک نئی فلم کے حوالے سے اس بات پر چہ میگوئیاں ہورہیں کہ کیا چینی سنیما میں بھی عریانیت آرہی ہے۔
نئی فلم ’ کرس آف دی گولڈن فلاور‘ نے پہلے ہی ہفتے میں ساٹھ لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ کا بزنس کیا ہے۔
تجارتی نکتہ نظرسے فلم کو بہت کامیاب بتایا جارہا ہے۔ پہلے ہفتے میں اتنا کمانے والی یہ پہلی چینی فلم ہے۔
لیکن فلم میں اداکارہ لی گانگ کے لباس اور انکے کپڑے بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ انکا لباس شہوت انگیز ہے۔
ملک کی کئی ویب سائٹز اور میڈیا میں اس فلم کے حوالے سے بحث چھڑی ہے۔
خبر رساں ادارے زینوا کا کہنا ہے ’ اداکارہ لی گانگ کا کردار سبھی کی توجہ کا مرکز ہے جن کی چولی اتنی تنگ ہے کہ لگتا ہے سب کچھ باہر آنے کو ہے۔‘
چین کی ایک ویب سائٹ سوہو پر اس فلم کے حوالے سے آٹھ ہزار افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
’ ایک گمنام شخص نے لکھا ہے کہ اس طرح کے کپڑوں سے یہ تاثر ملےگا کہ چینی معاشرہ امریکہ سے بھی زیادہ آزاد ہے۔‘
’اس میں مغربی طرز کے شائقین کا خیال رکھا گیا ہے اور چینی کلچر اور شائقین کی پسند کا خیال نہیں رکھا گیا۔‘
بانڈ نامی ایک شخص کا کہنا تھا ’مجھے فلم کامار دہاڑ والا یا اداکاری کا کوئی منظر یاد نہیں ہے، یاد ہے تو صرف چمکتا ہوا گورا گوشت پوست۔‘
لیکن اداکارہ لی گانگ نے اپنے اس رول کا دفاع کیا ہے۔’اس میں عورت کے پرکشش اورخوبصورت نشیب فراز دکھائے گئے ہیں۔ مجھے ایسا لباس پہننے میں نہ تو ہچکچاہٹ محسوس ہوئی اور نا کوئی خطرہ ۔‘