Friday, 15 December, 2006, 01:32 GMT 06:32 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں سن 2006 کو یقیناً ناکام فلموں کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ ایک پنجابی فلم ’مجاجن‘ کے سوا اس برس کوئی فلم باکس آفس پر نہیں ٹھہر سکی۔
ان حالات میں بڑے بجٹ کی ایک پاکستانی فلم منظرِ عام پر آرہی ہے جسکی شوٹنگ دوبئی اور کراچی میں ہوئی ہے اور کہانی ایک کلاسیکی فرانسیسی ناول پر مبنی ہے۔
الگزینڈر ڈُوما کے معروف ناول ’ کاؤنٹ آف مونٹی کرسٹو‘ کو دنیا بھر میں طالب علموں کی کئی نسلیں ایک نصابی کتاب کے طور پر پڑھ چکی ہیں۔ خود پاک و ہند کے سکولوں اور کالجوں میں یہ کتاب برسوں تک پڑھائی جاتی رہی ہے۔
فرانسیسی زبان کے اس ناول کی عالمگیر مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا ترجمہ کر کے اُسے انگریزی ادب کے نصاب میں شامل کیا گیاہے۔
![]() | |
| ’واپسی‘ کا اشتہار دوسری فلموں کے اشتہاروں سے بالکل مختلف منظر پیش کرتا ہے |
فرانس میں یہ ناول 1846 میں چھپا تھا۔ اس پر پہلی خاموش فلم 1908 میں اور دوسری خاموش فلم 1913 میں بنی تھی، جبکہ اس ناول پر اوّلین بولتی فلم 1934 میں تیار ہوئی۔
پچھلی ایک صدی کےدوران صرف انگریزی اور فرانسیسی میں اس ناول پر تیس سے زیادہ فلمیں بن چکی ہیں۔
اس سلسلے میں اب تک کی آخری فلم چار سال قبل ہالی وُڈ میں بنی تھی جسکا سکرین پلے جے۔والپرٹ نے لکھا تھا اور ڈائریکٹر کیون رینالڈز تھے۔
ہندوستان میں اس کہانی کےمختلف حصّے کئی فلموں میں استعمال ہو چکے ہیں جن میں ہندی کے علاوہ تامل اور تلیگو فلمیں بھی شامل ہیں۔
![]() | |
| میں نے پانچ کروڑ کا سرمایہ محض اپنے شوق کی خاطر لگایا ہے، اسکا کچھ حصّہ واپس آجائے تو مجھے خوشی ہوگی |
فلم کے ڈائریکٹر اور سرمایہ کار مجید عبدالرزاق دوبئی کی ایک کاروباری شخصیت ہیں۔ لاہور میں اپنی فلم ’واپسی‘ کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ناول انہوں نے تیرہ برس کی عمر میں پڑھا تھا اور تبھی سے اُن کی خواہش تھی کہ اس پر فلم بنائیں گے۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ فلم بنانے کے لیے انہوں نے پاکستان کا انتخاب کیوں کیا جبکہ وہ یہی کام زیادہ اعلٰی پیمانے پر ممبئی جا کر بھی کر سکتے تھے، تو ہدایتکار کا جواب تھا ’سرمایہ‘ ۔
’ کاؤنٹ آف مونٹی کرسٹو‘ |
پاکستان میں اس پروڈکشن کا تمام انتظام و انصرام آغا شہزاد گُل نے سنبھال رکھا تھا جو کہ معروف فلم ساز آغا جی ۔ اے گُل کے فرزند اور ایورنیو سٹوڈیو کے مالک ہیں۔
فرانسیسی ناول میں سارا ایکشن فرانس اور اٹلی کے ساحلی علاقوں میں ہوتا ہے، جبکہ پاکستانی فلم میں دوبئی اور کراچی کے ساحلوں نے اسکی جگہ لے لی ہے۔ کہانی کے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی لیکن زمانہ انیسویں صدی کی بجائے اکیسویں صدی کے آغاز کا ہے۔
فلم کے ہیرو شامل خان نے بتایا کہ یہ فلم ایکشن اور ایڈونچر سے بھر پور ہے اس لیے نوجوانوں میں اسکی مقبولیت کے خاصے امکانات ہیں۔
مکالمہ نگار عقیل روبی کا کہنا تھا کہ فلمی تالاب کے ٹھہرے ہوئے پانی میں یہ فلم ایک ایسے سنگ ریزے کی طرح گرے گی جو ساکت پانی میں زندگی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے، سال 2006 کے دوران سوائے سیدنور کی ’مجاجن‘ کے کوئی فلم کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ اردو کا کوئی اخبار اٹھا کر فلمی اشتہارات کا صفحہ کھولئیے تو آپکو تقریباً تمام اشتہارات ایک ہی فلم کے معلوم ہونگے جن میں مونچھوں والا اداکار شان ہاتھ میں لاٹھی یا کلاشنکوف لے کر کھڑا دشمنوں کو للکارتا ہے۔ شان کی یکساں تصویروں کے بیچوں بیچ، آنے والی فلم ’واپسی‘ کا اشتہار ایک بالکل مختلف منظر پیش کرتا ہے۔
اگر مارکیٹ میں بھی اس فلم نے اپنا یہ الگ انداز برقرار رکھا تو ہم کہہ سکیں گے کہ مجاجن کے بعد ایک اُردو فلم نے بھی اس برس کے آخری دنوں میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔