Tuesday, 28 November, 2006, 12:08 GMT 17:08 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
یوں تو اداکاری کا مطلب ہی روپ بدلنا ہے، یعنی آپ وہ نظر آئیں جو آپ حقیقت میں نہیں ہیں، چنانچہ ایک خوش و خرم زندگی گزارنے والا معقول اداکار کیمرے کے سامنے آکر کبھی تو ایک غمگین، پریشان اور مفلوک الحال مزدور بن جاتا ہے اور کبھی ایک ایسے کروڑ پتی سمگلر کا روپ دھار لیتا ہے جو دنیا کا امیر ترین آدمی بننے کے خواب دیکھ رہا ہو۔
اداکاری یقیناً اسی دھوپ چھاؤں کا نام ہے لیکن بعض اوقات اداکار اپنی ذات سے بہت مختلف کردار اپنانے کا چیلنج قبول کر لیتے ہیں۔اگر کوئی جوان اداکار ایک اسّی سالہ بوڑھے کا کردار قبول کر لیتا ہے تو اُس میں فنِ اداکاری کے ساتھ ساتھ میک اپ آرٹسٹ کا فن بھی آزمائش کے کٹہرے میں پہنچ جاتا ہے۔
یہی صورتِ حال اُس وقت پیش آتی ہے جب کوئی عورت رُوپ بدل کر آدمی بننا چاہے یا کوئی لڑکا کسی لڑکی کا بھیس بدل لے۔
![]() | |
| علی سلیم بطور بیگم نوازش علی |
پاکستان میں منوّر ظریف مرحوم بڑی کامیابی سے عورت کے روپ میں ڈھل جایا کرتے تھے۔ایک ناز نخرے والی عورت، جو عشوہ و غمزہ دِکھا کر کئی دِل پھینک مردوں کو پیچھے لگا لیتی تھی۔
اصل چیلنج |
اِس فلمی روایت کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو بہت سے عالمی شہرت یافتہ اداکار اس تجربے سے گزر چکے ہیں۔
![]() | |
| رتیش دیش مکھ نے روپ بدلنے کے عمل کو ایک اعلیٰ فن کے درجے پر پہنچا دیا |
پاکستان کے نئے ٹی وی چینلوں پر حال ہی میں مقبول ہونے والا کردار
’بیگم نوازش علی‘ جوکہ اصل میں علی سلیم نامی ایک نوجوان ادا کرتا ہے، یہ ثابت کرنے کےلئے کافی ہے کہ اگر کامیابی سے ادا کیا جائے تو ناظرین ایسے کردار کو دیکھنے اور سننے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
![]() | |
| اپنا سپنا منی منی میں جنس بدل کر کامیڈی پیدا کی گئی ہے |
بعد میں عامر خان اور سلمان خان نے بھی بالترتیب ’بازی‘ اور ’جانِ من‘ میں نسوانی کردار نبھانے کا چیلنج قبول کیا۔
اس سلسلے کی تازہ ترین مثال ہے فلم ’اپنا سپنا منی منی‘ جِس میں ریتیش دیش مُکھ نے اِس فن کو نقالی کی پستی سے اُٹھا کر اعلیٰ کردار کاری کے منصب پر پہنچا دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ساڑھی پہن کر خرمستیاں کرنا تو بہت آسان کام ہے لیکن خود کو سرتاپا نسوانیت کے سانچے میں ڈھال لینا اور مطلوبہ عرصے تک مسلسل اپنی شخصیت کو اسی کیفیت میں رکھنا اصل چنوتی ہے۔