http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 25 November, 2006, 14:24 GMT 19:24 PST

چینی فلمی ایوارڈز تنازعات کا شکار

چینی زبان میں بننے والی فلموں کے لیے آسکر ایوارڈز کی سی حیثیت رکھنے والے سالانہ ’گولڈن ہارس ایوارڈز‘ اس سال تنازعات کا شکار نظر آتے ہیں۔

اس سال تائیوان کے دارالحکومت تائے پی میں ہونے والی ان ایوارڈز کی تینتالیسویں تقریب کے منتظر شائقین کو اس وقت مایوسی ہوئی جب خلاف معمول انہیں بہت کم فلمی ستارے دیکھنے کو ملے۔

ہانگ کانگ سے بننے والی فلمیں گولڈن ہارس ایوارڈز میں چھائی رہتی ہیں۔ اس سال بھی ہانگ کانگ کی فلمیں بارہ ایوارڈز کے لیے نامزد تھیں۔ ان ایوارڈز میں ہمیشہ بڑی تعداد میں چینی فلمی صنعت کے نامور اداکار‘ ہدایتکار، موسیقار اور گلوکار شریک ہوتے آئے ہیں۔

لیکن اس سال صورتحال مختلف تھی۔ مثلاً بہترین ہدایتکار کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیے گئے چار میں صرف ایک صاحب تائیوان سے تعلق رکھنے والے سوچاؤ پنگ تقریب میں شرکت کے لیے آئے۔

سوچاؤ کا کہنا تھا تقریب میں اکیلا ہونا ان کے لیے کوئی زیادہ خوشی کی بات نہیں۔ ’ایسا لگتا ہے کہ ایوارڈ جیتنا اب غیر اہم ہوتا جارہا ہے۔ ایوارڈ حاصل کرنے سے کوئی مالی فائدہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔ یہ باکس آفس پر کامیابی کی ضمانت نہیں ۔۔۔۔ ہاں صرف ایک دن کے لیے آپ اخبارات کی سرخیوں میں ہونگے‘۔

اسی طرح چینی ہدایتکار شیان ژوآنگ ژوآنگ کی فلم ’گو ماسٹر‘ کو بغیر کوئی وجہ بتائے مقابلے سے خارج کردیا گیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی بعض اطلاعات کے مطابق ایسا شاید چینی حکومت کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے ہوا ہے۔

کہا جا رہا کہ چینی حکومت تائیوانی فلموں کے لیے مخصوص دو ایوارڈز کو ’فرموسا پرائز‘ کا نام دینے پر خوش نہیں تھی۔ فرموسا کا مطلب اگرچہ خوبصورت جزیرہ ہے لیکن اسے آزادی کے استعارے کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔