Monday, 13 November, 2006, 23:58 GMT 04:58 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لگان فیم ڈائریکٹر اشوتوش گواریکر نے مغل بادشاہ اکبرِاعظم اور راجپوت شہزادی جودھا بائی کے رومان اور شادی پر جو فلم بنانے کا اعلان کیاتھا اسکی شوٹنگ اگرچہ جے پور میں شروع ہو چکی ہے لیکن ساتھ ہی کچھ راجپوت حلقوں میں اس فلم بندی کے خلاف شدید ردِعمل بھی شروع ہوگیا ہے۔
اجیت سنگھ نے راجستھان کی ریاستی حکومت سے بھی کہا ہے کہ وہ اس فلمبندی کو روکیں اور اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم اس فلم کا نام تبدیل کروائیں کیونکہ اکبر کے ساتھ ایک راجپوت شہزادی کا نام جوڑ کر اس برادری کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
ایک تازہ بیان میں اجیت سنگھ نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر سرکار نے کوئی اقدام نہ کیا تو وہ خود ڈائریکٹر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے تاکہ وہ تاریخی حقائق سے مذاق نہ کر سکیں۔
ٰ تاریخی حقائق ٰ کے بارے میں خود اجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ جودھا بائی اصل میں اکبر کے بیٹے جہانگیر کی بیوی تھی۔
چلیئے اجیت سنگھ نے مغلوں اور راجپوتوں کے کسی رشتے کو تو قبول کیا ورنہ کئی جیّد تاریخ داں تو جودھابائی کے وجود ہی کو تسلیم نہیں کرتے۔ مثلاً انڈین کونسل آف ہسٹاریکل ریسرچ کے سابق چیئرمین پروفیسر عرفان حبیب کہتے ہیں ’ہماری تاریخ میں جودھا بائی نام کا کوئی کردار وجود ہی نہیں رکھتا اور اگر اس نام کی کوئی عورت موجود بھی تھی تو وہ جہانگیر کی ماں ہرگز نہیں تھی کیونکہ جہانگیر کی خود نوشت سوانح عمری تزکِ جہانگیری تک میں اسکا کوئی سراغ نہیں ملتا‘۔
بھارت میں قومی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت کی شائع کردہ گیارھویں جماعت کے نصاب میں شامل تاریخ کی کتاب میں یہ عبارت ملتی ہے ’اُودے سنگھ نے اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے لئے، بعد میں جودھابائی کہلانے والی، اپنی بیٹی جگت گوسین کی شادی اکبر کے بیٹے سلیم (جہانگیر) سے کردی‘۔
جِن دنوں ’ کون بنے گا کروڑ پتی‘ کا پروگرام زور و شور سے جاری تھا، پروگرام کے میزبان امیتابھ بچن نے ایک سوال کیا کہ اِن میں سے کونسی خاتون اکبر بادشاہ کی بیوی تھی؟ اور درست جواب تھا ’جودھابائی‘۔
ہندوستان بھر میں (اور ہندوستان سے باہر بھی) کروڑوں ناظرین نے یہ پروگرام دیکھا لیکن کسی نے اس جواب پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ فلم اور ٹیلی ویژن کے ناظرین ٹھوس تاریخی حقائق سے زیادہ، پروگرام کے تفریحی عنصر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
کون نہیں جانتا کہ انارکلی کا ڈرامہ ایک فرضی داستان ہے لیکن 1928 سے آج تک یہ قصّہ آٹھ مرتبہ فلمایا جاچکا ہے اور سینکڑوں مرتبہ مختلف شکلوں میں سٹیج پر پیش ہو چکا ہے۔
![]() | |
| اکبرِاعظم، جو اب تک صرف ایک سخت گیر حکمران کی صورت میں جلوہ گر ہوتے رہے ہیں، اب ایک رومانی ہیرو کی شکل میں نظر آئیں گے |
فلم ساز کو حاضرین کی تالیاں درکار ہوتی ہیں مورخّین کی منظوری نہیں۔
اگر شہزادہ سلیم اور انارکلی کی فرضی محبت پر اتنی فلمیں بن سکتی ہیں تو اسکے باپ اکبر اور ماں جودھابائی کے رومان پر فلم کیوں نہیں بن سکتی۔ اگر جودھابائی کا تاریخ میں کوئی وجود نہیں تھا تو بھی افسانے میں اسکا وجود تخلیق کیا جا سکتا ہے کیونکہ اشوتوش گواریکر مغلوں پر کوئی ڈاکومنٹری تیار نہیں کر رہے بلکہ ڈھائی گھنٹے کا ایک تفریحی پروگرام تیار کر رہے ہیں جس میں لوگ ایشوریا رائے کے رقص و نغمہ کے ساتھ ساتھ اسکی گھُڑ سواری اور تلوار بازی سے بھی لطف اُٹھائیں گے اور نوجوان اکبر کے روپ میں ہریتک روشن کو بھی ناچتے گاتے اور ڈرامائی مکالمے بولتے دیکھ سکیں گے۔
’عُرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں‘
لگے رہو اشوتوش گواریکر