Wednesday, 01 November, 2006, 12:59 GMT 17:59 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
آج سے سو برس پہلے لکھے جانے والے مرزا محمد ہادی رسوا کے ناول پر اب تک ہزاروں فلمیں بن چکی ہیں۔ جی ہاں، ذرا ذہن پر زور دے کر سوچیں تو خود آپ کو کتنی ہی ایسی فلمیں یاد آجائیں گی جن میں ایک اغوا شدہ بچّی کو طوائف کے کوٹھے پر فروخت کر کے اس کی بقیہ زندگی ناچ گانے سے وابستہ کر دی جاتی ہے۔
نخشب کی ’زندگی یا طوفان‘ ہو یا ایس ایم یوسف کی ’مہندی‘ کمال امروہی کی ’پاکیزہ‘ ہو یا راج کھوسلہ کی ’تُلسی تیرے آنگن کی‘ ہر جگہ آپ کو ایک سجی بنی طوائف کسی شریف زادے کا انتظار کرتی نظر آئے گی جو اسے طبلے کی تھاپ اور گھنگھروؤں کی جھنکار سے آزاد کر کے گھریلو چار دیواری کی پناہ میں لے جائے۔
خاموش فلموں کا دور ختم ہوتے ہی ایسی کہانیوں کی مانگ بڑھ گئی تھی جن میں ڈرامائی مکالمے کے ساتھ ساتھ رقص و موسیقی کا اہتمام بھی کیا جا سکے۔
چونکہ ایک وسیع تر تناظر میں پاک و ہند کی ہر تیسری فلم امراؤ جان ہی کی کہانی پیش کرتی تھی اس لیئے خود مرزا ہادی رسوا کے ناول کو فلمانے کا خیال بیسویں صدی کی ساتویں دہائی تک کسی کو نہ آیا۔
اگرچہ 1981 کی بھارتی پروڈکشن کو اب ’ کلاسیکی امراؤ جان‘ کا اعزاز دے دیا گیا ہے لیکن اکثر لوگ بھول جاتے ہیں کہ اس سے دس برس پہلے پاکستان میں ہدایتکار حس طارق نے اس کہانی کو فلمایا تھا اور یہ کاروباری طور پر ایک انتہائی کامیاب فلم تھی۔ اس میں امراؤ کا کردار رانی نے اور نواب زادے کا کردار شاہد نے ادا کیا تھا۔ جہاں تک ناول کا تعلق ہے تو حس طارق نے اپنی کمرشل ضروریات کے تحت اسے خاصا تبدیل کر دیا تھا۔
![]() | |
| 1981 میں ریکھا نے مظفر علی کی فلم میں امراؤ جان کا کردار ادا کیا |
ناول میں امیرن نام کی ایک آٹھ سالہ بچّی اپنے گاؤں سے اغوا ہوتی ہے اور لکھنؤ پہنچ کر خانم نامی ایک مادام کے ڈیرے پر فروخت کر دی جاتی ہے۔ خانم ہی کی تربیت میں یہ لڑکی شعر و ادب سے آشنا ایک با ذوق رقاصہ کی صورت میں جوان ہوتی ہے اور اپنے کوٹھے پر آنے والوں کے شوقِ رقص و موسیقی کے ساتھ ساتھ اُن کے ذوقِ شعر و سخن کی بھی تسکین کرتی ہے۔
کوٹھے پر آنے والوں میں ایک نواب سلطان بھی ہیں جنھیں امراؤ دِل دے بیٹھی ہے۔ تاہم جب زندگی بھر ساتھ نبھانے کا سوال آتا ہے تو نوجوان نوّاب اپنے گھر والوں کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کر کے ایک خاندانی بہو لانے پر راضی ہو جاتے ہیں۔
اس بزدل نواب زادے کے بعد ایک شیر دِل ڈاکو فیض علی اس کی زندگی میں آتا ہے اور امراؤ مردانگی کے اس پیکر کے ساتھ فرار ہو جاتی ہے۔ اب اُسے یقین ہے کہ باجے طبلے کی زندگی کو خیر باد کہہ کر وہ فیض علی کے گھر چوکے چولہے کا سکون حاصل کرے گی، لیکن اس کا محبوب، فیض علی ڈاکو پولیس سے مقابلے میں مارا جاتا ہے اور امراؤ، چار و ناچار واپس خانم کے ڈیرے پر آجاتی ہے۔
کہانی میں ایک ڈرامائی موڑ اُس وقت آتا ہے جب لکھنؤ پر گوروں کی فوج کا حملہ خانم کے ڈیرے والوں کو راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ امراؤ اور اُس کے ساتھیوں کا قافلہ لکھنؤ سے باہر ایک قصبے میں پڑاؤ ڈالتا ہے تو امراؤ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے کہ حالات اسے فیض آباد میں واپس لے آئے ہیں، یعنی اُسی قصبے میں جہاں سے وہ آٹھ برس کی عمر میں اغوا ہوئی تھی۔
اہلِ خانہ سے ملاقات کا ایک انتہائی جذباتی منظر پیش آتا ہے لیکن اپنی تمام تر محبت کے باوجود وہ ایک طوائف کو اپنے فردِ خانہ کے طور پر قبول کرنے سے معذور ہیں چنانچہ امراؤ واپس اپنے اڈے پر آجاتی ہے اور پہلے کی طرح شعر و سخن اور رقص و موسیقی کے دامن میں پناہ حاصل کرتی ہے۔
![]() | |
| ناول کی اشاعت کے ستر برس بعد اس پر پہلی فلم پاکستان میں بنی جس کی ہیروئن رانی اور ہدایتکار حسن طارق تھے |
دسمبر اُنیس سو بہتر میں ریلیز ہونے والی اِس فلم نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی اور نثار بزمی کی موسیقی کے ساتھ ساتھ نبی احمد کی رنگین عکاسی کو بھی ناظرین نے دِل کھول کے داد دی۔
فلم کے انجام پر رانی کا والہانہ رقص اور نغمہ ’آخری گیت سنانے کے لیئے آئے ہیں‘ ایک ایسا کلائیمکس ثابت ہوا جو عرصہ دراز تک فلم بینوں کے ذہن پر نقش رہا۔
پہلی امراؤ جان پاکستان میں |
انگریزوں کے لکھنؤ پر حملے کے بعد جب امراؤ کا قافلہ فیض آباد جا پہنچتا ہے اور امراؤ کو یاد آجاتا ہے کہ یہ تو اس کا آبائی گاؤں ہے تو وہ درد کے سروں میں یہ گیت گاتی ہے ’یہ کیا جگہ ہے دوستو، یہ کون سا مقام ہے‘ موسیقار خیام نے طرز بنانے پر جان توڑ محنت کی ہے اور جس طرح ناول میں یہ موڑ انتہائی اہم ہے اسی طرح مظفر علی کی فلم میں بھی اس گانے کی بدولت کہانی کا یہ موڑ اہم ترین بن جاتا ہے۔
کاسٹنگ میں احتیاط برتنے کے ساتھ ساتھ مظفر علی نے اصل ناول کی زبان کے قریب قریب رہنے کی کوشش کی ہے۔ مرزا رسوا کے لکھنوی محاورے کو بغیر زیادہ قطع برید کے نئے فلم بینوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کا کام آسان نہ تھا چنانچہ ہدایتکار نے اپنے لکھے ہوئے سکرپٹ کو مزید نکھارنے اور سنوارنے کے لیئے جاوید صدیقی اور شمع زیدی کی مدد بھی حاصل کی اور اس طرح مظفر علی کی امراؤ جان سن اسّی کے عشرے کی ایک اہم ترین فلم بن گئی۔
![]() | |
| جے۔ پی دتہ کو امراؤ جان میں نہیں بلکہ اس کی شخصیت میں دفن دیہاتی لڑکی ٰ امیرن ٰ میں دلچسپی ہے |
مرزا رسوا نے اپنے ناول میں فلیش بیک کی تکنیک استعمال کی تھی یعنی امراؤ جان کی زبانی اُس کے ماضی کا احوال مختلف ٹکڑوں میں بیان کیا تھا۔ جے۔ پی دتہ بنیادی طور پر بیانئے کے اسی اندز سے متاثر ہوئے تھے چنانچہ فلم میں بھی امراؤ جان کی داستانِ ماضی اسی طرح فلیش بیک کے ذریعے فلم بینوں پر واضح ہوتی ہے۔
اس مرتبہ امراؤ جان کا کردار ایشوریارائے ادا کر رہی ہیں، نواب سلطان کےلیئے ابھیشیک بچن کو چنا گیا ہے، فیض علی ڈاکو کا رول سنیل شیٹھی نے نبھایا ہے جبکہ خانم جان کا کردار شبانہ اعظمی نے ادا کیا ہے اور فلم کے گیت اُن کے شوہر جاوید اختر نے لکھے ہیں۔
انو ملک کی موسیقی کے ساتھ ساتھ ہدایتکار بہت حد تک فلم کے آخری رقص پر انحصار کر رہا تھا جس میں بھاری ملبوسات کے ساتھ ایشوریا رائے کو کتھک کے تیز تیز قدم اُٹھانے تھے لیکن شوٹنگ کے دوران واضح ہوا کہ اتنے بھاری لباس میں اتنا تیز کتھک ممکن نہیں چنانچہ کوریو گرافر وبھئی مرچنٹ نے سیٹ پر ہی کتھک کی تیز گامی کو کچھ لگام دی اور کلاسیکی حرکات و سکنات کی جگہ آسانی سے سمجھ میں آنے والے ’سٹیپ‘ متعارف کرائے جن سے نہ صرف ایشوریا کا کام آسان ہوگیا بلکہ ناظرین کی تفننِ طبع کا سامان بھی ہوگیا۔
دنیا بھر کی زبانوں میں کلاسیکی ناول ہر پندرہ بیس برس کے بعد نئے سرے سے فلمائے جاتے ہیں، ہمارے یہاں یہ تجربہ فی الحال بنگالی ناولوں تک محدود رہا ہے۔ امراؤ جان اُردو کا پہلا ناول ہے جِسے تیسری بار فلم بند ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ یہ روایت کہاں تک آگے بڑھتی ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہندوستان میں اور بیرونِ ہندوستان اس فلم کے ناظرین کس حد تک اس کی پذیرائی کرتے ہیں۔