Monday, 25 September, 2006, 21:53 GMT 02:53 PST
ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
عامر خان کی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کو آسکر ایوارڈ کے لیئے نامزد کیاگیا ہے۔ فلم رنگ دے بسنتی کے ہدایت کار راکیش اوم پرکاش مہرہ اور فلمساز رونی اسکریو والا ہیں۔
آسکر ایوارڈ میں نمائیندگی کی نامزدگی کے لیئے آٹھ فلمیں جیوری کے سامنے تھیں جن میں رتیک روشن کی „کرش‘، کرن جوہر کی ’کبھی الواداع نہ کہنا‘، راجو ہیرانی کی ’لگے رہو منا بھائی‘، وشال بھردواج کی ’اوم کارا‘، مدھر بھنڈارکر کی ’کارپوریٹ‘ اور دو مراٹھی اور تیلگو فلمیں شامل تھیں۔ جن میں رنگ دے بسنتی نے بازی مار لی۔
بارہ ممبران پر مشتمل جیوری کے لیئے فلم کا انتخاب مشکل تھا کیونکہ رنگ دے بسنتی کے ساتھ لگے رہو منا بھائی اور اوم کارا کی ٹکر تھی۔
جیوری ممبر کلپنا لاجمی کا کہنا تھا کہ فلم رنگ دے بسنتی اور لگے رہو منا بھائی ، دونوں فلموں میں سخت مقابلہ تھاکیونکہ دونوں ہی فلمیں ہمارے ملک کی تہذیب اور ثقافت کی عکاس ہیں اور دونوں میں ہی اسی کے ساتھ ایک پیغام بھی ہے۔ رنگ دے بسنتی میں وطن کی آزادی کا جذبہ اور نئی نسل کی سوجھ بوجھ کی عکاسی تھی تو لگے رہو منا بھائی میں مہاتما گاندھی کا عدم تشدد کا فلسفہ تھا لیکن رنگ دے بسنتی کے انتخاب کی وجہ اس کی سنیماٹوگرافی بھی ہے۔
![]() | |
| مہرہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے آج کے نوجوان نسل کے جذبات کو آزادی کے رنگ کے ساتھ ملا کر ایک تجربہ کرنے کی کوشش کی تھی |
مہرہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے آج کے نوجوان نسل کے جذبات کو آزادی کے رنگ کے ساتھ ملا کر ایک تجربہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی ہمارے ملک کے نوجوانوں میں ایک جذبہ ہے جسے بس بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارا یہی تجربہ کامیاب رہا۔
مہرہ کے مطابق ابھی آگے بہت محنت کی ضرورت ہے کیونکہ آسکر کے لیئے چھ ہزار اکیڈمی ممبران کو اس سے روشناس کرانا ہے کہ وہ انہیں ووٹ دیں۔ مہرہ نے ساتھ ہی اس پر اظہارِ اطمیناں کیا کہ ان کی فلم اب تک دنیا کی تقریبا پچیس یونیورسٹیوں میں دکھائی جا چکی ہے اور عامر نے پہلے ہی کافی ممالک میں اس کی تشہیر کی تھی۔
عامر خان کے لیئے خوشی کا یہ دوہرا موقع ہے اس سے پہلے ان کے پروڈکشن میں بنی فلم لگان آسکر میں پہنچ چکی تھی۔
فلم رنگ دے بسنتی کی کہانی کو بہت خوبصورتی کے ساتھ آزادی کے دور اور آج کے نوجوان کے خیالات سے جوڑ کر فلمایا گیا تھا۔
اس فلم نے انڈیا کے نوجوان نسل پر اتنا گہرا اثر کیا تھا کہ کالج کے نوجوانوں نے اسے اپنی آئیڈیل فلم مان لیا تھا اسی طرز پر اپنے حقوق کی لڑائی لڑتے دکھایا گیا جس طرح فلم میں ہیرو عامر خان، کنال کپور، سدھارتھ، مادھون، شرمن جوشی اور اتل کلکرنی سوہا علی خان کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں۔
![]() | |
| فلم نے انڈیا کے نوجوان نسل پر اتنا گہرا اثر کیا تھا |