Friday, 22 September, 2006, 11:33 GMT 16:33 PST
ریاض مسرور
بی بی سی ڈاٹ کام، سرینگر
شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوینشن سینٹر میں بائیس ستمبر کو ایک ماحولیاتی فلم فیسٹول کا افتتاح کیا گیا جس میں ریاستی اور غیر ریاستی فلم سازوں کی تقریباً دو درجن تخلیقات کی نمائش کی گئی ہے۔
کشمیر میں پہلی بار ہور ہے اس فلمی میلے کی افتتاحی تقریب میں مقررین نے کشمیر کے پہاڑوں اور جنگلات میں موجود ’لاکھوں‘ انڈین افواج کو یہاں کے خوبصورت اور دلفریب ماحول کے لیئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
عالمی تنظیم ایکشن ایڈ کی ریاستی شاخ کے سربراہ ارجمند حسین طالب نے اس موقع پر کہا کہ کشمیر کے سرسبز جنگلات اور برف پوش پہاڑوں پر انڈین افواج کا غلبہ ماحولیات کے لیئے بڑا خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ’پانی اور زمین محض ماحولیاتی عناصر نہیں بلکی ہماری معیشت کا بنیادی اثاثہ بھی ہیں لیکن کشمیر میں یہ قیمتی اثاثہ جنگلات اور پہاڑیوں پر لاکھوں انڈین افواج کی موجودگی سے تباہ ہو رہا ہے اور اس سے وائلڈ لائف بھی حد درجہ متاثر ہو رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وجہ چاہے کچھ بھی ہو، ماحول اور جنگلی جانوروں کا تحفظ انسانیت کی بقا کے لیئے ضروری ہے اور ہم کو کشمیر سے اس بارے میں بہت زیادہ تعاون مل رہا ہے۔‘
کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ذرائع ابلاغ سے وابستہ اور معروف کالم نگار اعجازالحق نے اپنی تقریر میں بتایا کہ کشمیر میں جس قدر خوبصورتی ہے اسی قدر یہاں ’سیاسی پولیوشن‘ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا: 'انسان تو مجموعی طور پر قدرتی وسائل کی ناقدری کا گنہگار ہے، لیکن ہمارے یہاں لاکھوں کی تعداد میں جگہ جگہ اور ہر پہاڑی و جنگلی علاقے میں تعینات انڈین افواج نباتات و جمادات (فلورا اینڈ فاؤنا) کو تباہ کر رہے ہیں۔‘
فلمی میلے کے حاشیے پر کئی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے پچھلے سال آئے تباہ کن زلزلے سے متعلق تصویروں کی نمائش بھی کی تھی، جس کا افتتاح ریاستی وزیر تاج محی الدین نے کیا تھا۔