Thursday, 21 September, 2006, 12:25 GMT 17:25 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
25 ستمبر سے دوبئی میں شروع ہونے والے بین الاقوامی فلمی میلے میں عرب فلم سازوں کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے اور اب تک ایک سو سے زیادہ فلم سازوں نے شرکت کےلیئے اپنا اندراج کرالیا ہے۔
واضح رہے کہ اس انٹرنیشنل فلمی میلے میں پہلی بار عرب فلموں کے لیئے تین الگ انعامات مختص کیئے گئے ہیں جو کہ اِن زمروں میں ہیں:
بہترین عرب فیچر فلم
بہترین عرب شارٹ فلم
بہترین عرب ڈاکومینٹری
یہ تینوں انعامات اِن زُمروں میں چُنی جانے والی فلموں کے ہدایتکاروں کو ملیں گے۔
عرب ممالک میں منعقد ہونے والے فلمی میلوں میں یوں تو دنیا بھر کی بہترین فلمیں دکھائی جاتی ہیں لیکن خود عرب دنیا کی نمائندگی نہیں ہوتی کیونکہ عرصہء دراز سے عرب ممالک میں فلمی منظر سُونا سُونا سا ہے۔
عربوں کے مقابلے میں ایران کو دیکھیئے تو اسکی فلمی شہرت آسمان کو چھُو رہی ہے۔ آج یورپ یا امریکہ کے کسی بھی منجھے ہوئے فلم بین کےلیئے جعفر پناہی، کے۔رُستمی یا محسن مخمل باف کے نام اجنبی نہیں ہیں لیکن اِن ایرانی ہدایتکاروں کے مقابِل عربوں کی کسی ایک فلمی شخصیت کا نام بھی ذہن میں نہیں آتا۔ ماضی میں بھی عالمی سطح پر ساری عرب دنیا کی نمائندگی بنیادی طور پر صرف ایک ہی ملک کرتا تھا یعنی مصر۔ انیس سو ساٹھ اور ستّر کے عشرے مصری فلم سازی کا سنہری دور کہلاتے ہیں جب فلم انڈسٹری کو مکمل سرکاری تعاون حاصل تھا اور وہاں ہر طرح کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی موضوع پر عالمی معیار کی فلمیں بنتی تھیں۔
![]() | |
| عرب دنیا کے بزرگ اور معروف ترین اداکار عمر شریف |
اِن حالات میں بہت سے فلم ساز تائب ہوگئے اور کچھ نے حالات سے سمجھوتہ کرکے ٹیلی ویژن ’سوپ‘ بنانے کا دھندا اپنا لیا۔
25 برس پہلے تک عالمی معیار کی فلمیں بنانے والی مصری انڈسٹری آجکل محض ہلکی پھُلکی مزاحیہ فلمیں تیار کر رہی ہے۔
تیونس، مراکش، الجزائر، لبنان اور فلسطین کے کچھ ہدایتکار جو شروع ہی سے ہالی وُڈ کی بجائے یورپ سے متاثر تھے، انہوں نے بھی جب دیکھا کہ عرب دنیا میں اُن کی فلموں پر پابندیاں لگ رہی ہیں تو انہوں نے غیر ملکی کمپنیوں کے اِشتراک سے فلمیں بنانی شروع کردیں تاکہ نمائش کےلیئے عرب حکومتوں کا مرہونِ منت نہ ہونا پڑے اور یورپ یا امریکہ میں نمائش کے ذریعے کم از کم اتنی آمدنی ہو جائے کہ وہ اپنی آئندہ فلموں کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
عرب دنیا کے اندر فلم سازی کے احیاء کی پہلی کوشش آج سے چھ برس پہلے بحرین میں کی گئی تھی اور حکومتِ بحرین کے تعاون سے سن 2000 میں عرب فلموں کا ایک میلہ منعقدد کیا گیا تھا جِس میں کسی کاٹ چھانٹ یا کسی روک ٹوک کے بغیر فلمیں داخل کی گئیں تھیں لیکن یہ میلہ اپنی نوعیت کا ایک واحد واقعہ بن کے رہ گیا اور حکومتِ بحرین اس ’کارِ خیر‘ کو جاری نہ رکھ سکی۔
![]() | |
| نئے مصری سینما کی دو معروف و مقبول اداکارائیں |