Monday, 18 September, 2006, 14:45 GMT 19:45 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
ستمبر 1906 میں گاندھی جی نے جنوبی افریقہ میں ستیہ گرہ کی جِس تحریک کا آغاز کیا تھا اُسے ایک صدی ہوچکی ہے اور بھارت میں سرکاری طور پر اسکی صد سالہ تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس میں سوسالہ جشن کےلیئے یوں تو بہت سی تجویزیں زیرِ بحث آئیں مثلاً یہ کہ سال بھر جاری رہنے والی اِن تقریبات کے دوران گاندھی جی کی تمام تصنیفات کے نئے ایڈیشن مختلف زبانوں میں شائع کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی کتابوں کے آسان اور مختصر ایڈیشن بھی انگریزی اور ہندی میں شائع کئے جائیں، اور یہ کہ مختلف عالمی یونیورسٹیوں میں ’گاندھی چیئر‘ قائم کی جائے۔
لیکن اِن گھسی پٹی تجویزوں سے مختلف اور انوکھا مشورہ راجیہ سبھا کی رکن محسنہ قدوائی نے دیا۔ انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے سب ارکان کو سنجے دت کی فلم ’لگے رہو مُنّا بھائی‘ دیکھنی چاہیئے تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ آج کے بھارتی نوجوان کو فلسفہء گاندھی سے کسطرح روشناس کرایا جاسکتا ہے۔
![]() | |
| فلم میں گاندھی جی کے پیغام کو عوامی انداز میں جنتا کے سامنے پیش کیا گیا ہے |
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں چھتیس گڑھ کے سابق وزیراعلٰی اجیت جوگی نے بھی اس مشورے کی تائید کی کہ گاندھی جی کی تعلیمات کو عام کرنے کا طریقہ مُنّا بھائی سے سیکھا جاسکتا ہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے فلم دیکھی ہے تو اجیت جوگی نے کہا کہ میں دیکھنے گیا تھا لیکن اتنا رش تھا کہ مجھے ٹکٹ نہیں ملا۔
اجیت جوگی کی طرح لاکھوں فلم بین ابھی تک ٹکٹ حاصل نہیں کر سکے کیونکہ ’لگے رہو مُنّا بھائی‘ کو حقیقی معنوں میں کھڑکی توڑ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
بھارتی انڈسٹری میں سلسلہ وار فلم کا رواج نہیں ہے اور اب تک چند مشہور فلموں کے جو سیکوئل بنے ہیں اُن میں سے اکثر ناکام ہوئے ہیں۔
![]() | |
| ودیابالن ریڈیو سے گیتوں اور باتوں کا ایک ایسا پروگرام پیش کرتی ہے جو سنجےدت کا دل موہ لیتا ہے |
تاہم راج کمار ہرانی کا خیال اس سے بالکل مختلف تھا۔ انھیں معلوم تھا کہ پہلی فلم میں سنجے دت کا کردار ہِٹ ہو چکا ہے لیکن وہ اس امر سے بھی بخوبی آ گاہ تھے کہ داداگیری کے زور پر اس کردار کو مزید آگے نہیں چلایا جاسکتا چنانچہ انہوں نے اس کی بالکل متضاد قدر ’گاندھی گیری‘ کا سہارا لیا یعنی فلسفہ گاندھی کا وہ رُوپ جو ایک عام آدمی کی سمجھ میں آسکتا ہے۔
اس عوامی فہم و فراست کی ایک مثال اُس منظر میں نظر آتی ہے جہاں ایک گارڈ سے تھپڑ کھانے کے بعد مُنّا بھائی دادا گیری دکھانے کی بجائے گاندھی گیری کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنا دوسرا گال بھی گارڈ کے سامنے پیش کردیتا ہے۔ گارڈ دوسرے گال پر بھی ایک زنّاٹے کا تھپڑ رسید کرتا ہے تو مُنّا بھائی پلٹ کر اُس پر حملہ کرتا ہے اور مار مار کے اس کا حُلیہ بگاڑ دیتا ہے کیونکہ اُس نے گاندھی کا یہ مسیحی فلسفہ تو سن رکھا ہے کہ کوئی ایک گال پہ تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی آگے کردو۔۔۔ لیکن کوئی دوسرے گال پر بھی تھپڑ جڑ دے تو پھر کیا کرنا ہے؟۔
![]() | |
| ہدایتکار راجکمار ہرانی اپنی بیگم کے ہمراہ |
اس منظر سے فلسفہء گاندھی کی تضحیک مقصود نہیں بلکہ مُنا بھائی کی سادگی اور خلوص دکھانا مقصود ہے۔
ہدایتکار راج کمار ہرانی فلم ڈائرکشن کی دنیا میں نسبتاً نئے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیرئر کا آغاز 1988 میں فلم ’ہیرو ہیرا لال‘ کے ایڈیٹر کے طور پر کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے ’جذبات‘ اور ’مشن کشمیر‘ بھی ایڈٹ کیں۔
2003 میں انہوں نے ہدایتکاری کا اوّلین تجربہ فلم مُنابھائی ایم بی بی ایس میں کیا اور تبھی یہ بات طے ہوگئی تھی کہ اُنکا اصل میدان یہی ہے: یعنی فلم ڈائریکشن۔
اُن کی موجودہ فلم کو اگرچہ گذشتہ فلم (ایم بی بی ایس) کا دوسرا حصّہ یا سیکوئل کہہ کر پکارا جارہا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک نئی کہانی ہے اور اس میں سوائے مُنّا بھائی (سنجے دت) اور سرکٹ (ارشد وارثی) کے اور کوئی چیز پہلی فلم سے تعلق نہیں رکھتی۔
فلم کی کہانی پروڈیوسر وِدھو ونود چوپڑا اور ہدایتکار راج کمار ہرانی نے مِل کے لکھی ہے۔ منظر نامے اور مکالمات میں ایک تیسرے رائٹر ابھیجیت جوشی نے اُن کی مدد کی ہے جوکہ قبل ازیں فلم ’قریب‘ اور ’مشن کشمیر‘ کی رائٹرز ٹِیم میں شامل رہے ہیں۔
![]() | |
| ودیا بالن اپنی پہلی فلم پرینیتا میں |
اِن مبصرین کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ محض ایک اتفاقی جھونکا نہیں تھا کیونکہ لگے رہو مُنا بھائی میں اس بادِصبا کا تسلسل جاری نظر آتا ہے۔
پرینیتا کے ریلیز ہوتے ہی ودیابالن کو پچیس تیس فلموں میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی تھی جِن میں سے بہت سوچ بچار کے بعد اس نے صرف چھ فلموں کا انتخاب کیا یعنی: ’ہے بےبی‘، ’دسواتھرم‘، ’راہ گیر‘، ’سلامِ عشق‘، ’اکلاویا اور ’گرو‘۔
لگے رہو منّا بھائی میں ودیابالن کا کام دیکھ کر ہم سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اگر وہ اتنی جانچ پرکھ کے بعد کوئی کردار قبول کرتی ہے تو آئندہ برس کے دوران ہمیں یقیناً پانچ چھ معیاری فلمیں دیکھنے کو ملیں گی۔
اس دوران میں کانگریس کی ورکنگ کمیٹی بھی تعلیماتِ گاندھی کی صد سالہ تقریبات منعقد کرتی رہے گی لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس کمیٹی کے تمام فرائض ’لگے رہو منّا بھائی‘ کی ٹیم پہلے ہی بطریقِ احسن ادا کر چکی ہے۔