Tuesday, 29 August, 2006, 13:30 GMT 18:30 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
اپنے گردوپیش پر نگاہ ڈالئیے تو محسوس ہوگا کہ ہم حقیقتاً ایک سہ ابعادی یعنی ’تھری ڈائمنشنل‘ دنیا میں رہتے ہیں۔ ہمارے آگے پیچھے اور دائیں بائیں کہ علاوہ اوپر نیچے بھی دنیا آباد ہے۔ لیکن جب ہم اِس سہ جہاتی دنیا کے کسی حصِے کی تصویر بناتے ہیں تو ساری جہات سمٹ کر صرف لمبائی اور چوڑائی میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ چونکہ کاغذ یا کینوس کی اپنی صرف دو سمتیں ہوتی ہیں: لمبائی اور چوڑائی، چنانچہ طویل سرنگ میں سے برامد ہوتی ہوئی ٹرین، گہرے کنوئیں سے نکلنے والی، پانی چھلکاتی ہوئی بالٹی اور درخت سے ٹوٹ کر گرتا ہوا سیب، جب کاغذ یا کینوس کے دو رُخی مِیڈیم پر نمودار ہوتے ہیں تو خود بھی محض دو رُخے رہ جاتے ہیں اور موٹائی یا گہرائی والا تیسرا رُخ سپاٹ سطح پر نمودار نہیں ہو سکتا۔
یہی صورتِ حال فلم یا ٹیلی ویژن کی سکرین پر بھی پیش آتی ہے کیونکہ سکرین محض لمبائی اور چوڑائی رکھتی ہے چنانچہ گہرائی کا ہلکا سا تاثر ہی پیش کیا جا سکتا ہے، اصل گہرائی، فاصلہ اور تناظر نمودار نہیں ہوسکتا۔
![]() | |
| فلپس کمپنی نے ایسی تکنیک دریافت کر لی ہے جس کی بدولت ٹی وی کی سکرین پر بھی تھری۔ڈی مناظر دیکھے جا سکیں گے۔ |
ساکت تصویر کی حد تک تو یہ تجربات کامیاب رہے اور ہمارے بچپن تک سٹیریو سکوپ تصویریں دکھانے والے آلات بہت مقبول تھے، خود ہمارے پرائمری سکول کے باہر ایک شخص چادر بچھا کر بیٹھتا تھا جِس پر دوہرے اِمیج والی بہت سی تصاویر پڑی رہتیں۔
ہندوستان میں تھری۔ ڈی |
3-D فلموں میں بھی یہی تکنیک اپنائی گئی تھی کہ دو کیمروں کے ذریعے ذرا فاصلے سے (یعنی صرف اتنا ہی فاصلہ جتنا انسان کی دو آنکھوں کے درمیان ہوتا ہے) کسی چیز کی تصویر کشی کی جاتی۔ ننگی آنکھ سے دیکھیئے تو آپکو سکرین پر دو اِمیج آپس میں گڈ مڈ دکھائی دیں گے لیکن ایسی فلم دیکھنے کےلیئے ہر تماشائی کو ایک خصوصی عینک فراہم کی جاتی ہے تاکہ دائیں آنکھ صرف دائیں جانب والا امیج دیکھ سکے اور بائیں آنکھ محض بائیں جانب والا، تاہم ذہن کے پردے پر یہ دونوں عکس مِل کر ایک ٹھوس سہ جہاتی تصویر تخلیق کر سکیں۔
سن پچاس کے عشرے میں 3-D فلموں کا بہت رواج تھا اور سن ساٹھ اور ستر کے عشروں میں ٹیلی ویژن کو تھری۔ڈی بنانے کی سر توڑ کوششیں کی گئیں۔
مجھے 1981 کی وہ شام اچھی طرح یاد ہے جب واشنگٹن ڈی سی میں اپنے دفتر سے کام ختم کر کے گھر پہنچا تو تمام اہلِ خانہ مبہوت ہوکر ٹیلی ویژن سکرین پر نگاہیں جمائے ہوئے تھے۔ میں حیران تھا کہ اِن سب لوگوں کو فٹ بال میں راتوں رات اتنی دلچسپی کیسے پیدا ہوگئی۔ تھوڑا سا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ فٹ بال میچ 3-D میں دکھایا جارہا تھا۔ مشکل یہ تھی کہ تیسری جہت کا لطف محسوس کرنے کےلیئے آپکو ٹی وی سکرین کے عین سامنے بے حس و حرکت بیٹھنا پڑتا تھا --- ذرا سی گردن ہِلی اور تیسری جہت کا مزہ غارت!
شاید اسی پابندی کے باعث سن 80 کی دہائی میں تھری ۔ ڈی ٹیلی ویژن مقبول نہ ہوسکا۔ تاہم اب فلپس کمپنی نے برسوں کی تحقیق کے بعد ایک ایسا طریق کار دریافت کر لیا ہے کہ نہ تو ناظرین کو خصوصی عینک لگانی پڑے گی اور نہ ہی سکرین کے عین سامنے بے حس و حرکت بیٹھنا پڑے گا۔
نئی تکنیک میں تصویر کے ہر نیلے، سرخ اور سبز ذیلی پِکسل کے اوپر ننھا سا لینس آجاتا ہے جو پِکسل کو نو (9) مختلف زاویوں پر منعکس کرتا ہے۔ چنانچہ ٹی وی سکرین کو کسی زاویے سے بھی دیکھا جائے اس پر ٹھوس، تین طرفی تصویر دکھائی دیتی ہے۔
![]() | |
| ویڈیو گیمز میں تھری۔ڈی کا استعمال پہلے سے ہورہا ہے۔ |
کچھ قمار خانوں نے اپنی جُوئے کی مشینوں پر یہ تھری ۔ ڈی سکرینیں لگوالی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ٹھوس امیج دیکھ کر جواری زیادہ پیسہ لُٹانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔
گھریلو ٹیلی ویژن کی سکرین تک پہنچنے میں اِس تکنیک کو کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن ویڈیو گیمز کی دنیا میں اس تکنیک کا چلن تیزی سے ہورہا ہے۔
فلپس نے ایک ایسا سافٹ ویر بھی تیار کر لیا ہے جس کی مدد سے عام وڈیو کو 3-D ویڈیو میں تبدیل کیا جاسکے گا۔ یہ سافٹ ویر ابھی تجرباتی منازل میں ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ برس کی عالمی صنعتی نمائش میں اسکا بھرپور مظاہرہ کیا جاسکے گا۔
تفریحی مقاصد کے لیئے سامنے آنے والی اِس تکنیک کا ایک ضمنی فائدہ اُن سرجنوں کو بھی پہنچے گا جو ریموٹ کنٹرول پر سرجری کی نگرانی کرتے ہیں اور انسانی جسم کے اندر جاری اعمال و افعال کو اپنی سکرین پر تین جہات میں دیکھ سکتے ہیں۔