Monday, 21 August, 2006, 23:47 GMT 04:47 PST
حسن مجتبی
سان ڈیاگو، کیلیفورنیا
کیا آپ نے دیکھا ہے واراناسی میں گنگا کے پانیوں کو ہنستے، روتے اور گاتے؟ یہ سب بسم اللہ خان کی ہی شہنائی میں تھا۔ صرف پانی ہی کیا۔ سارے عناصر مٹی، آگ اور ہوا بھی ان کی شہنائي میں گانے، ہنسنے، ناچنے اور رونے لگتے تھے۔ میں سچ کہہ رہا ہوں۔
’نماز، سر اور موسیقی، یہ تینوں ایک ہی چيز ہیں‘ بسم اللہ خان نے کہیں اپنے کسی انٹرویو میں کہا تھا۔یہ بچہ قمرالدین ایک ایسے انسان تھے جن کے اس دنیا میں آنے پر ان کے دادے کی طرح ہر کوئی کہہ سکتا تھا: بسم اللہ۔
کہتے ہیں بسم اللہ خان نے شہنائي واراناسی کے شوناتھ مندر سے جڑے اپنے پرکھوں میں سے بخشے خان سے سیکھی تھی۔ وہ ہندستان اور ہندوستان سے باہر موسیقی اور شہنائی کے حوالے سے انڈیا کا نہرو سے بھی بڑا نام تھے۔ دنیا میں ایسے بھی لوگ ہوں گے جنہوں نے نہرو کا نام نہیں سنا ہوگا لیکن بسم اللہ خان کے نام سے ضرورواقف ہوں گے۔ میں نے میراثیوں اور محرم کے ماتمیوں سے ان کا ذکر ایسے سنا جیسے وہ اماموں کا ذکر کر رہے ہوں۔ ایک میراثی نے مجھ سے کہا ’بسم اللہ خان استاد دھمالی فقیر سے بھی بڑا شہنائی نواز ہے‘۔ علن فقیر کے والد سندھ میں مانے اور منجھے ہوئے شہنائی نواز تھے۔
آیا ہے کربلا میں غریب الوطن کوئی
سب کچھ ہے اس جہان میں لیکن میرے کریم
بھائی کو ذبح ہوتے نہ دیکھے بہن کوئی
کہیں کوئی جنت ہے تو ۔۔۔ |
اگر واقعی آسمانوں یا زمین پر آدمی کے مرنے کے بعد کہیں کوئي جنت ہے تو پھر آج سے وہاں اس بڑے شہنائی نواز کی بڑی جگل بندیاں اور ’سر سنگھار شمشاد‘ لگ رہے ہوں گے۔