Friday, 21 July, 2006, 11:37 GMT 16:37 PST
تحریر و تصاویر: عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
شاعری کیا ہے؟ یہ سوال آج بھی اتنا ہی پُر اسرار ہے جتنا ہزاروں برس پہلے تھا۔ بِیتی صدیوں میں شاعری کی تعریف (ڈیفی نِشن) کئی بار متعین کی گئی، مختلف شاعروں اور نقّادوں نے شاعری کی حدود و قیود اپنے اپنے انداز میں مقرّر کیں۔ اِن تعریفوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شاعری وہ صِنف ادب ہے کہ جسکا ترجمہ ممکن نہ ہو۔
دوسری زبان تو دُور کی بات ہے خود اُسی زبان میں اگر شعر کے الفاظ آگے پیچھے کر دئیے جائیں تو بیان کا سارا طلسم ختم ہوجاتا ہے۔
لیکن اسکے باوجود ہر زبان میں شاعری کا ترجمہ ہوتا رہا ہے اور آجکل بھی ہورہا ہے۔
شاعری کے ناقابل ترجمہ ہونے کا نظریہ جتنا پرانا ہے، اسکی مخالفت کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے۔
جوکہ ظاہر ہے فیض کی معروف نظم ’اے روشنیوں کے شہر‘ سے لیا گیا ہے۔ نمونے کے طور پر ترجمے کی چند سطریں ملاحظہ کیجئے:
اے روشنیوں کے شہر
سبزہ سبزہ، سوکھ رہی ہے پھیکی، زرد دوپہر
دیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر
دُور اُفق تک گھٹتی، بڑھتی، اُٹھتی، گرتی رہتی ہے
کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر
بستا ہے اس کہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر
اے روشنیوں کے شہر
O City of Lights
The vapid yellow afternoon rubs itself on the green grass;
The venom of loneliness eats through the walls;
And far in the distance, where the sky meets the earth,
Pain like a desolate wave,
Or a fog that will not lift,
Waxes and wanes, rises and falls.
Behind this fog lies the city of lights,
O city of lights!
خالد حسن کے ترجمے کا کمال |
![]() | |
| سلیمہ ہاشمی نے اپنے والد کی شخصیت کے مختلف پہلؤں پر روشنی ڈالی |
مترجم کو غلامانہ لفظی ترجمے اور متن کی مکمل کایا کلپ کی اِن دو انتہاؤں کے درمیان ایک توازن تلاش کرنا ہوتا ہے۔
طاہرہ مظہر علی خان نے اس موقعے پر حاضرین سے پنجابی میں خطاب کیا اور اُن لوگوں کی اچھی طرح خبر لی جو فیض کو محض فیشنی سوشلسٹ یا ’بیٹھک کا باتونی‘ قرار دیتے ہیں۔
کتاب کی تقریبِ رونمائی میں فیض احمد فیض کی صاحب زادی سلیمہ ہاشمی مہمانِ خصوصی تھیں۔ انھوں نے اپنے بچپن اور نوجوانی کے کچھ واقعات سنائے جن سے فیض صاحب کی شخصیت پر نئے زاویوں سے روشنی پڑتی ہے۔
تقریب کے آخر میں فیض گھرانے کی تیسری پُشت کی نمائندگی کرنے والے عدیل ہاشمی سٹیج پر آئے اور اپنے نانا جان کے بارے میں اظہارِ عقیدت کیا۔
![]() | |
| خآلد حسن کے تراجم پر مشتمل کتاب کا ٹائٹل |
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع کردہ دوسو نوّے صفحے کی اس کتاب میں داؤد کمال اور خالد حسن کی ترجمہ کردہ نوّے نظموں کے علاوہ فیض احمد فیض کے کچھ نثرپاروں اور فیض صاحب کے بارے میں عمائدینِ علم و ادب کی چیدہ چیدہ تحریروں کا ترجمہ بھی موجود ہے۔