http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 27 May, 2006, 06:36 GMT 11:36 PST

اداکار ادیب انتقال کر گئے

پاکستان کے نامور اداکار ادیب جمعہ کے دن لاہور میں ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔

ادیب دل اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ انہیں ایک ہفتہ قبل دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد انہیں پی آئی سی میں داخل کرا دیا گیا جہاں وہ ایک ہفتہ زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔

ادیب کی عمر پچھہتر سال کے لگ بھگ تھی۔ انہوں نے تین شادیاں کیں۔ ان کا صرف ایک بیٹا ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر معذور ہے اور مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

اداکار ادیب کا پورا نام مظفر ادیب تھا۔ وہ ریاست جموں کشمیر کے ایک پٹھان خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ قیام پاکستان سے قبل ان کے والدین سلسلہ معاش میں کشمیر سے ممبئی منتقل ہو گئے۔ادیب نے ممبئی میں ہی تعلیم مکمل کی اور اردو ادب میں ایم اے کیا۔

انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز سکرپٹ رائٹنگ سے کیا۔ انیس سو چھپن میں پہلی مرتبہ ہدایت کار ایس ایم یوسف کی فلم ’پاک دامن‘ میں ولن کا کردار ادا کیا۔ ممبئی میں ایس ایم یوسف کے ساتھ چند فلمیں اور آنجہانی پرتھوی راج کے ساتھ ایک فلم ’انسان‘ کرنے کے بعد وہ پاکستان آگئے۔یہ غالباً انیس سو باسٹھ کی بات ہے۔

یہاں ان کی پہلی فلم ’دال میں کالا‘ تھی۔ اور آخری فلم مجاجن ہے جو اس وقت ملک بھر کے سنما گھروں میں زیر نمائش ہے۔ انہوں نے چار سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں مولا جٹ، ہیرا پتھر، شیر خان، ظلم دا بدلا، یہ امن، زرقا، فرنگی، شہید اور آنسو بن گئے موتی شامل ہیں۔

ادیب نے تھیٹر پر بھی کام کیا اورایک اندازے کے مطابق ان کے سٹیج ڈراموں کی تعداد پچاس ہے۔ انہوں نے چند ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا۔ ایک ٹی وی ڈرامے میں سرسید احمد خان کا کردار انہوں نے بڑی خوبصورتی سے نبھایا۔