Tuesday, 23 May, 2006, 14:25 GMT 19:25 PST
گیتا پانڈے
بی بی سی نیوز، سری نگر
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہلی بار عورتوں کے لیے ایک انگریزی رسالہ نے اپنی اشاعت کا آغاز کیا ہے اور اس کی پہلی اشاعت ہی بحث مباحثے کا باعث بن گئی ہے۔
’شی‘ کے نام سے شائع ہونے والے اس رسالے کو حاصل کرنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد بازاروں کے چکر لگائے کیونکہ اس رسالے کے اجراء کے بارے میں ایسی خبریں شائع ہو رہی تھیں جن سے لوگوں میں تجسس بھی تھا اور دلچسپی بھی۔
لیکن کسی کو بھی بازار سے ’شی‘ کی کاپی نہیں مل سکی۔ کیونکہ رسالے کا پہلا شمارہ صرف اعزازی طور پر فراہم کیا گیا تھا۔
لوگوں کے تجسس اور دلچسپی کی وجوہات دو تھیں۔ ایک تو یہ کہ ایڈیٹروں میں سے ایک شیبا مسعودی، جو کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق کی اہلیہ ہیں اور جن کی تعلیم و تربیت امریکہ میں ہوئی ہے۔ دوئم یہ کہ پہلے ہی شمارے میں ایک مضمون شامل ہے جو نوجوانوں کی ڈیٹنگ کے بارے میں ہے۔
ان دو کے اشتراک نے پہلے شمارے میں نہ صرف لوگوں کے لیے دلچسپی کا خاصا سامان فراہم کر دیا بلکہ ذرائع ابلاغ کو بھی اس پر وہ توجہ دینی پڑی جو عام طور پر جرائد کو اشاعت کو نہیں ملتی۔
سری نگر میں خان نیوز ایجنسی کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کم از کم دو سو لوگ رسالے ’شی‘ کے لیے آئے۔
![]() | |
| سری نگر میں خان نیوز ایجنسی کے ہلال احمد |
لیکن شیبا مسعودی رسالے کے حوالے سے زیادہ سرگرم نہیں ہیں اور اس حوالے سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔
رسالے کے حوالے سے انٹرویو کے لیے کی جانے والی تمام درخواستیں ان کی ساتھی ایڈیٹر صائمہ فرہاد کو منتقل کر دی جاتی ہیں۔
صائمہ فرہاد کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی اینڈ سوشل ورک میں تدریس سے وابستہ ہیں۔
صائمہ کا کہنا ہے کے ’میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ لوگ میر واعظ کے حوالے کو اتنا کیوں اچھال رہے ہیں۔ شیبا ایک فرد ہیں اور وہ کوئی بھی قدم اٹھا سکتی ہیں‘۔
![]() | |
| صائمہ فرہاد کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی اینڈ سوشل ورک میں تدریس سے وابستہ ہیں |
صائمہ فرہاد اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے رسالے نے خاصے تنازعات پیدا کیے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو اس کے مندرجات کے بارے میں علم نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سرینگر میں جہاں کہیں جائیں ’شی‘ کے بارے پر بحث ہو رہی ہے۔ ہر ایک کی اس بارے میں کوئی نہ کوئی رائے ہے اور اس کی ایک وجہ نوجوانوں کی ڈیٹنگ یا معاشقوں کے بارے میں ایک فیچر ہے۔
صائمہ فرہاد دلیل دیتی ہیں کہ ’سب کو پتہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے لیکن کوئی بھی اس بارے میں بات کرنے پر تیار نہیں ہے لیکن میرا خیال ہے کہ جب تک ہم اس پر بات نہیں کریں گے اس نجات نہیں مل سکتی‘۔
انہوں نے بتایا کہ اس فیچر کے بارے میں ریسرچ کے دوران خاص طور پر لڑکیاں خجالت محسوس کر ہی تھیں اور اس کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں کہ وہ ڈیٹ کرتی ہیں۔
صائمہ نے بتایا کہ جب ہم نے لڑکیوں سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کا کوئی بوائے فرینڈ ہے تو ان کا جواب ہوتا تھا ’نہیں میرا تو نہیں لیکن میری دوست کا ہے‘۔
رسالے کو پسند کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس رسالے کے ذریعے ایک مفید مقصد حاصل ہو گا۔
![]() | |
| عورتوں کہ مسائل پر بحث کا ایک پلیٹ فارم حاصل ہو جائے گا: مسلم جان |
اگرچہ یہ رسالہ انتہائی بنیادی نوعیت کا ہے اور صرف سولہ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں’ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش مسائل‘ اور ’عورتوں میں پستانوں کے کینسر سراغ جلد کیسے لگایا جا سکتا ہے؟‘ ’کشمیری عورتیں، ذرائع ابلاغ میں‘ جیسے دوسرے مسائل کے بارے میں بھی اہم مواد ہے اور بیوٹی ٹپس، شاعری لطیفے وغیرہ بھی ہیں لیکن بحث کا موضوع صرف ڈیٹنگ والا فیچر ہی بنا ہوا ہے۔
اس فیچر ایک طالبِ علم کے حوالے سے کہا گیا ہے: اس میں کیا ہے، میرے تمام دوستوں کی دوستیں ہیں‘۔
اس کا کہنا ہے کہ یہ ملاقاتیں کیفوں کے کیبنوں میں ہوتی ہیں۔ کیفوں کے مالکوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کیبنوں میں کیا ہوتا ہے ان کو تو بیس روپے ملنے سے دلچسپی ہوتی ہے۔
روایتی معاشرے میں اس طرح کے تعلقات بہت لمبے نہیں چلتے۔
![]() | |
| ’ہمارا معاشرہ روایتی ہے۔ ڈیٹینگ ایک نیا رجحان ہے : بلال ڈار |
ایک طالب علم جانثار قریشی کا کہنا ہے کہ ’عورتوں کے بارے میں رسالہ نکلنا اچھی بات ہے لیکن اس میں سیاسی اور مذہبی مسائل کے بارے میں بھی مضامین ہونے چاہئیں۔ کشمیر ایک مذہبی ریاست ہے اور ہم مذہب کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں‘۔
دوسرے طالب علموں، جیسے فہیم اسلم کا ردِ عمل اس رسالے کے بارے میں مثبت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بے شک یہ ایک اچھا رسالہ ہے‘۔
باتوں باتوں کے دوران جب میں نے یونیورسٹی کی ایک نوجوان خاتون سے یہ پوچھا کہ ’کیا آپ کا بھی کوئی بوائے فرینڈ ہے؟‘۔
تو پہلے تو ان کا چہرہ حجاب یا شرم سے سرخ ہو گیا لیکن پھر انہوں نے خود پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا ’ یہ میرا نجی معاملہ ہے‘۔
![]() | |
| عورتوں کے بارے میں رسالہ نکلنا اچھی بات ہے:جاں نثار قریشی |
لیکن ایک اور طلبِ علم کا کہنا ہے ’معاشقے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک فطری بات ہے اور اتنی ہی قدیم ہے جتنی قدیم ہماری تہذیب ہے اور اس کی ابتدا تو آدم و حوا سے ہو گئی تھی۔ لیکن یہاں اب اسے ایک ممنوعہ اور ٹیبو کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے‘۔