عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
ماضی کے ہیرو اور آج کے فلم ساز اعجاز درانی کا کہنا ہے کہ سرکاری سرپرستی اور امداد کے بغیر پاکستان کی تباہ شدہ فلمی صنعت دوبارہ اپنے پاؤں پہ کھڑی نہیں ہو سکتی۔
اِن خیالات کا اظہار اُنھوں نے قائدِاعظم لائبریری میں منعقدہ ایک مذاکرے کے دوران کیا جس کا اہتمام ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز پنجاب، جاوید اختر نے کیا تھا۔
اعجاز درانی نے کہا کہ نیفڈیک کا بند ہوجانا ایک برا شگون ہے کیونکہ یہ نیک نیتی سے شروع کیا گیا ایک ایسا ادارہ تھا جِس کے مقاصد بہت نیک تھے لیکن بد قسمتی سے یہ ادارہ اپنے اصل مقاصد سے منحرف ہو گیا ورنہ بھارت اور بنگلہ دیش میں قائم اسی نوعیت کے ادارے فلمی صنعت کے مفاد کی خاطر آج بھی دِن رات کام کر رہے ہیں اور اُن ممالک کی فلم انڈسٹری اِن سرکاری اداروں سے بھرپور استفادہ کر رہی ہے۔
اس ضمن میں انھوں نے ایران کی مثال بھی دی جہاں اسلامی انقلاب کے بعد فلموں کی پروڈکشن مزید بڑھ گئی ہے بلکہ دُنیا بھر میں ایرانی فلموں نے اپنا ایک منفرد مقام پیدا کر لیا ہے۔
گیت نگار عقیل روبی نے پاکستانی فلمی صنعت کی تباہی کا بنیادی سبب تعلیم کے فقدان کو قرار دیا اور کہا کہ جب تک تعلیم یافتہ افراد اس صنعت سے وابستہ نہیں ہوں گے اور اُن کی تکنیکی تربیت کا انتظام نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک فلمی صنعت کا حال ناگفتہ بہ رہے گا۔
![]() | |
| حاضرین نے ہاتھ اُٹھا کر اس قرارداد کی حمایت کی کہ حکومت کو فلم انڈسٹری کی فوری مدد کا بیِڑا اُٹھانا چاہیئے |
اسلم ڈار نے کہا کہ پاکستانی فلمی صنعت کی تباہی کا اصل سبب چربہ سازی ہے جس کا آغاز سن 50 کی دہائی میں فلم ’نوکر‘ سے ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب تمام جنوبی ایشیا میں بھارتی اور پاکستانی فلمیں ایک ساتھ چلتی تھیں اور ایک صحت مند مقابلے کی فضا موجود تھی لیکن پاکستانی چربہ فلموں کی نمائش پر ہر طرف چہ می گوئیاں ہونے لگیں کہ پاکستان تو ہندوستانی فلموں کی نقل تیار کرتا ہے۔
اسلم ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بدنام کرنے کی یہ سازش انتہائی کامیاب رہی اور ہم چربہ سازی کے لگائے ہوئے وہ زخم آج تک چاٹ رہے ہیں۔ بزرگ ہدایتکار نے اس امر پہ افسوس کا اظہار کیا کہ قیامِ پاکستان سے آج تک کسی حکومت نے بھی فلم سازی کی صنعت کو سنجیدگی سے نہیں لیا حالانکہ ایک زمانے میں یہی صنعت حکومت کو کروڑوں روپے تفریحی ٹیکس کی شکل میں ادا کیا کرتی تھی۔
![]() | |
| ماضی کے ہیرو، آج کے فلم ساز اعجاز درانی |
فلمی صنعت کی بھرپور وکالت کرتے ہوئے سیّد نور نے کہا کہ میں محض زبانی دعوے کرنے کا قائل نہیں ہوں بلکہ جو کہتا ہوں وہ کر کے دکھاتا ہوں۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنی تازہ ترین فلم ’مجاجن‘ کی مثال دی جو بقول اُن کے ایک صاف ستھری تفریحی فلم ہے جس نے عرصہ دراز کے بعد عورتوں بچوں سمیت تمام افرادِ خانہ کو سنیما گھروں کی طرف راغب کیا ہے۔
سیّد نور نے اس بات سے اتفاق کیا کہ معیاری فلم سازی کا تعلیم و تربیت سے براہ راست تعلق ہے۔ انھوں نے حاضرینِ جلسہ کو بتایا کہ اُن کی فلم اکیڈمی عنقریب نوجوانوں کی تربیت کا کام شروع کر دے گی اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد، فلم کی مارکیٹ میں آکر سکرپٹ نگاری، اداکاری، موسیقی، سیٹ ڈیزائن، کاسٹیوم، میک اپ، فوٹوگرافی اور ہدایتکاری، غرض ہر شعبہء فلم میں ایک انقلاب پیدا کر دیں گے۔