http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 21 March, 2006, 11:07 GMT 16:07 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردوڈاٹ کام کراچی

کارو کاری پر پہلی مقامی کارٹون فلم

پاکستان میں عزت کے نام پر لڑکیوں اور عورتوں کے قتل کے مسئلے کارو کاری پر کارٹون فلم بنائی گئی ہے۔

اس فلم کا دورانیہ دو منٹ اٹھاون سیکنڈ ہے، جسے ٹو ڈی پر بنایا گیا ہے۔ مقامی لباس اور لب و لہجے میں اس مسئلے پر ٹو ڈی پر بنائی گئی یہ پہلی کارٹون فلم ہے۔

اس فلم کے تخلیق کار سعید منگی ہیں جو سندھیالوجی میں افسر ہیں،
یہ ادارہ سندھ کے تحریری اور زبانی تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

گاؤں کے پس منظر میں بنائی گئی اس کارٹون فلم کی ابتداء ایک بچے سے ہوتی ہے، جسے اس کی بہن سبق پڑھاتی ہے جبکہ اس کا بڑا بھائی شہر ملازمت کے لیے جاتا ہے۔
شک پر لڑکی مومل کا بھائی اسے قتل کردیتا ہے اور بعد میں اسے پچھتاؤ ہوتا ہے

یہ بچہ اس واقعے کا چشم دید گواہ ہے جس کے شک پر لڑکی مومل کا بھائی اسے قتل کردیتا ہے اور بعد میں اسے پچھتاؤ ہوتا ہے۔

فلم کے پروڈیوسر سعید منگی نے بی بی سی کو بتایا کہ کاروکاری بہت سنجیدہ مسئلہ ہے جس کے بارے میں بچوں کو آگاہی دینا بہت ضروری ہے کیونکہ بچے ایسے واقعات کا بہت زیادہ نفیساتی اثر لیتے ہیں۔

سعید نے بتایا کہ مقامی طور جو ٹو ڈی فلمیں بنتی ہیں ان کے کردار ڈزنی لینڈ سے نقل کیے جاتے ہیں جس وجہ سے ان میں مقامی پن نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس چھوٹی سی فلم میں آٹھ کرکیٹرز ہیں، یہ ڈیڑہ ماہ میں مکمل ہوئی ہے۔جس کے لیے انہیں روزانہ دس گھنٹے کام کرنا پڑا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹو ڈی ٹیکنالوجی میں فلم بنانا بہت کٹھن کام ہے۔

انہوں نے اس فلم میں کئی سو اسکیچ یا عکس بنائے تھے۔ایک سکینڈ کے لیے سولہ فریم بنائے گئے جن سب کو جوڑ کر فلم بنتی ہے۔
سعید منگی ہیں جو سندھیالوجی میں افسر ہیں

نیشنل کالج آف آرٹس سے ایم فل یافتہ سعید منگی نے بتایا کہ ان کی یہ مختصر کارٹون فلم دیہی پس منظر میں بنی ہوئی ہے۔جس میں لوگوں کا طریقے رہن سہن، لباس اور لب و لہجہ مقامی ہے۔

سعید کے مطابق کارو کاری پر انہوں نے ریسرچ کی ہے اور جیل جاکر اس جرم میں ملوث ملزموں سے بھی ملاقات کی تاکہ ان کے جذبات اور احساسات معلوم ہو سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سندھ کے تاریخی کرداروں پر ایسی طویل فلمیں بنانے کے خواہشمند ہیں۔