Tuesday, 14 March, 2006, 09:29 GMT 14:29 PST
ریحانہ بستی والا
ممبئی
چودہ مارچ انیس سو اکتیس بالی وڈ سنیما کی تاریخ کا سنہرا دن ہے۔ آج سے پچھہتر برس قبل اسی روز پہلی بولتی فلم عالم آراء نمائش کے لیئے ممبئی کے میجسٹک تھیٹر میں پیش کی گئی تھی۔
اس وقت بھارت میں اردو زبان کا بول بالا تھا اور فلم کے پوسٹرز پر چونکانے والے جملے لکھے گئے تھے مثلاً ’اٹھہتر مردہ انسان زندہ ہو گئے انہیں بولتے دیکھو‘۔ اس انداز نے لوگوں کی بھیڑ اکٹھا کر دی۔ پولیس کے لیئے اس بھیڑ پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ اس فلم کے ٹکٹ بلیک بھی ہوئے۔
اس زمانے میں فلمی کمپنیاں فلم پروڈیوس کرتی تھیں اور پہلی بولتی فلم عالم آراء امپیریل مووی ٹون کے بینر تلے بنی ۔فلم کے ہدایت کار اردشیر ایرانی تھے ۔ اس وقت فلمسازی کے میدان میں بڑی تعداد میں پارسی فرقے کے لوگ حاوی تھے اور ان کی کئی کمپنیاں تھیں ۔
اسٹوڈیو میں جہاں فلم بن رہی تھی ، قریب ہی ریل کی پٹٹری تھی اور ہر چند منٹ پر ریل گزرتی تھی اس لیئے رات کے وقت ساؤنڈ ریکارڈنگ کی جاتی تھی اور سیٹ پر مائیکروفون چھپا کر رکھے جاتے تھے ۔
![]() | |
| گرو دت |
عالم آراء کے بعد شیریں فرہاد بنی اور پھر بولتی فلموں کا دور شروع ہو گیا۔ فلموں میں اردو زبان میں مکالمے لکھے جاتے تھے اس لیئے ہر فنکار کے لیئے اردو پڑھنا لازمی تھا اور مکالموں کی ادائیگی پر زور دیا جاتا تھا۔ پارسی اداکار فلمساز اور ہدایت کار سہراب مودی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زبان اور تلفظ کی غلطی بالکل برداشت نہیں کرتے تھے ۔
انیس سو پینتیس میں بھارتی سنیما نے ایک اور عظیم فنکار کے ایل سہگل کو جنم دیا ۔فلم ’دیوداس‘ میں محبت اور جدائی کے لمحوں کی اداکاری اور ان کی سدا بہار آواز نے لوگوں کو دیوانہ کر دیا ۔اس کے بعد اشوک کمار فلم ’دھوپ چھاؤں‘ اور ’اچھوت کنیا‘ سے مشہور ہوئے۔ اس دور میں اداکار اپنے اوپر فلمائے گئے گیت خود گاتے تھے اور اس لیئے وہ اس کی بھی تربیت لیتے تھے۔
کے ایل سہگل ، اشوک کمار ، کشور کمار اور ہیروئنوں میں ملکہ ترنم نورجہاں ، ثریا اور ملکہ پکھراج کی آواز نے بھارتی فلمی صنعت کی تار یخ تو بنائی ہی لوگوں کے دلوں میں بھی ہمیشہ کے لیئے جگہ بنا لی اور یہ ہستیاں شاید صدیاں گزرنے کے بعد بھی یادگار بن کر رہیں گی۔
![]() | |
| مینا کماری |
یہ دور بھارتی فلمی صنعت کا سنہرا دور مانا جاتا ہے ۔ اس دور میں بننے والی فلموں مغل اعظم اور مدر انڈیا نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ساٹھ کے عشرے میں ریلیز ہونے ان فلموں میں سے مغلِ اعظم نے اب تک ایک ارب دو کروڑ جبکہ مدر انڈیا نے اب تک ایک ارب آٹھ کروڑ روپے کا بزنس کیا ہے۔
بھارتی فلمی صنعت میں آج تک کی سب سے زیادہ منافع کمانے والی فلم ’ شعلے‘ ثابت ہوئی جس نے اب تک دو ارب تیرہ کروڑ روپے کا منافع کمایا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس فلم نے صرف ایک ہی ایوارڈ جیتا ۔
![]() | |
| سہراب مودی زبان اور تلفظ کی غلطی بالکل برداشت نہیں کرتے تھے |
![]() | |
| سلمان خان اور ہیلن |
سپر اسٹار امیتابھ بچن نے خواجہ احمد عباس کے ساتھ اپنی پہلی فلم سات ہندوستانی کی لیکن وہ ان کا مختصر رول تھا اور لوگوں نے یاد بھی نہیں رکھا۔ اس کے بعد وہ کئی فلاپ فلمیں دیتے رہے اور ہیروئنیں ان کے ساتھ کام کرنے سے کترانے لگیں۔ ایسے میں جیا بہادری نے فلم ’زنجیر‘میں ان کے ساتھ کام کرنا قبول کیا اور یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی اور فلمی دنیا نے امیتابھ کو’اینگری ینگ مین‘ کا خطاب دیا۔ وہ دن اور آج کا دن بولی وڈ میں ہر طرف امیتابھ کا جادو چھایا ہے۔
فلم کے اس سفر میں بھارتی فلمی صنعت نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے لیکن تیکنیکی اعتبار سے اس صنعت نے خوب ترقی کی۔ پہلے فلمیں لاکھوں میں بنتی تھیں اب کروڑوں میں بنتی ہیں ۔
ایک دور فلموں میں متوازی فلموں کا آیا یعنی آرٹ فلمیں بننے لگیں جن کے اداکاروں میں شبانہ اعظمٰی، سمیتا پاٹل، نصیرالدین شاہ، اوم پوری اور فاروق شیخ اور شیام بینیگل بطور فلمساز کامیاب ہوئے۔
آج کا یہ دور سپر اسٹار امیتابھ کے علاوہ فلم انڈسٹری کے’خان‘ کا دور ہے ۔ عامر خان ، شاہ رخ خان ، سلمان خان ، سیف علی خان آج ایسے نام ہیں جن کے دم پر فلمیں باکس آفس پر کامیاب ہوتی ہیں۔ ہیروئینوں میں ایشوریہ رائے نے دنیا میں اپنے حسن کے ذریعہ شہرت حاصل کی تو مادھوری دکشت، پریتی زنٹا اور رانی مکھرجی نے فن کی بلندیوں کو چھوا۔
آج بھارتی فلمی صنعت ہالی وڈ سے ایک قدم آگے ہے ۔ یہاں ہر سال آٹھ سو سے زائد فلمیں بنتی ہیں اور ہزاروں کروڑ روپے کی یہ صنعت مزید آگے بڑھتے جا رہی ہے ۔