Sunday, 05 March, 2006, 05:56 GMT 10:56 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کی فلمی تاریخ میں سن ستر کی دہائی کو ہم نے دو حوالوں سے دیکھا ہے: وحید مراد کا عروج و زوال اور بُھٹّو دَور کی فلمی ’’اِصلاحات‘‘ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اُس دور کی سب سے رنگیلی کہانی کا ذکر ابھی باقی ہے __ یعنی خود اداکار رنگیلا کی داستانِ عروج و زوال و عروج __ جی ہاں یہ آخری لفظ کتابت کی غلطی نہیں ہے بلکہ رنگیلا واقعی دنیا کے اُن معددے چند فنکاروں میں شامل ہے جو اپنے مکمل زوال کے بعد ایک بار پھر اُبھر کر سامنے آگئے۔
فن کار لوگ اپنی حساس طبعیت کی وجہ سے عموماً اپنے زوال کا صدمہ برداشت نہیں کر سکتے لیکن رنگیلا اپنی ذاتی زندگی میں مشقت کی بھٹی سے تپ کے نکلا ہوا ایسا کندن بن چکا تھا کہ کاروباری اونچ نیچ کے حادثات اسکی چمک دمک کو ماند نہ کر سکے۔
اداکار رنگیلا میں اب اتنی خود اعتمادی آ چکی تھی کہ وہ اپنے نام پر فلم کا نام رکھ سکتے تھے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جب انھوں نے 1972 میں اپنے لئے ڈبل رول والی ایک کہانی تیار کی تو اُسی خود اعتمادی سے اسکا نام ’دو رنگیلے‘ رکھا اور یہ بھی سُپر ہٹ ثابت ہوئی۔ انھی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے ایک برس بعد معروف فلم ساز و ہدایتکار شباب کیرانوی نے اَُس وقت کے دو مقبول ترین کامیڈی اداکاروں کے لئے ایک فلم لکھوائی اور بڑے دھڑّلے سے فلم کا نام رکھا: رنگیلا اور منور ظریف۔
1973 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم بھی بہت کامیاب رہی لیکن اُسی برس مکمل ہونے والی رنگیلا کی ذاتی فلم ’’کبڑا عاشق ‘‘ ریلیز ہوئی تو رنگیلے کا سنہرا امیج ایک دھماکے سے چکنا چور ہوگیا۔ اس فلم کی تکمیل پر رنگیلا نے تن من دھن قربان کردیا تھا اور اسکے خیال میں یہ عالمی سطح کا ایک شاہکار تھا لیکن حقیقت اسکے بالکل بر عکس نکلی تاہم یہ امر قابلِ غور ہےکہ شہرت و ناموری کے بلند مینار سے گرنے کے بعد رنگیلے نے وحید مُراد کی طرح جان سے ہاتھ نہیں دھوئے بلکہ کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا سفر نئے سرے سے شروع کر دیا۔
سن ستر کے عشرے میں اگرچہ بھٹو حکومت کی دلچسپی کے باعث فلمی صنعت میں بہتری کے بہت سے امکانات پیدا ہوئے تھے لیکن اُن سے بھرپور فائدہ نہ اٹھایا جاسکا۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جس وقت فلموں کی ترقی کے لئے قائم ہونے والا یہ سرکاری ادارہ سفید ہاتھی کی صورت اختیار کر رہا تھا۔ اس وقت مارکیٹ میں خوفناک، ان داتا، آئینہ، سلاخیں (حسن عسکری)، پلے بوائے اور مولا جٹ جیسی سُپر ہٹ فلمیں بھی چل رہی تھیں جو کہ بغیر کسی سرکاری امداد کے بنی تھیں، بلکہ نیفڈک کی پیدا کردہ مشکلات اور ضیاء دَور کے سخت ترین سینسر قوانین کی مار سہہ کر بھی سینما گھروں کی رونق قائم رکھے ہوئے تھیں۔
خشتِ اوّل چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
نیفڈک کی تعمیر ہی میں اسکی خرابی کی صورت مضمر تھی چنانچہ اپنے قیام کے کچھ ہی عرصہ بعد یہ ادارہ ڈانواں ڈول ہو گیا اور اسکا مقصد محض کچھ اعلیٰ سرکاری افسروں کی کھپت بن کے رہ گیا چنانچہ نیفڈک کے بند ہوجانے پر تو کسی کو حیرت نہیں ہوئی البتہ اتنے برس تک اسکے چلتے رہنے پر حیرت ضرور ہوتی ہے۔