Sunday, 05 March, 2006, 11:06 GMT 16:06 PST
آسکر ایوارڈ کے لیئے نامزد ہونے والی خودکش بمباروں پر بننے والی فلم جو کے ہدایتکار ابو اسد نے اپنی فلم پر اعتراضات کے جواب میں کہا ہے کہ مظاہرہ کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ فلم کے مقابلے میں فلم بنا کر جواب دیں۔
خودکش بمبار پر بننے والی اس فلم کو لاس انجلیس میں بہترین غیر ملکی فلم کے حوالے سے انڈیپینڈنٹ سپرٹ ایوارڈ دیا گیا۔
اس فلم کی کہانی دو فلسطینیوں کی ایک خود کش مشن سے چوبیس گھنٹے پہلے کی زندگی پر مرکوز ہے۔
فلسطینی خود کش بمباروں کا نشانہ بننے والے اسرائیلی شہریوں کے رشتہ داروں نے مطالبہ کیا ہے کہ اکیڈمی ایوارڈ کے لیئے منتخب کی گئی فلموں کی فہرست میں شامل اس فلم کو فہرست سے خارج کیا جائے۔
اس فلم کو بہترین غیر ملکی فلم کا آسکر ایوارڈ جیتنے کے لیئے فیورٹ قرار دیا گیا ہے۔
فلم کے ہدایت کار ابو اسد نے فلم پر اعتراضات کے جواب میں کہا: ’میں جواب میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ خود اپنی فلم بنا لیں۔‘
انہوں نے کہا: ’مجھے علم ہے کہ بعض لوگوں کو اس فلم سے تکلیف پہنچی ہے اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ فلم کے خلاف احتجاج کرنا مشکل نہیں۔ (پرامن) احتجاج کرنا تشدد سے بہتر ہے۔‘
ابو اسد کا کہنا تھا کہ ان کی فلم دراصل دیکھنے والوں کے ذہنوں میں فلم سوال بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا: ’ہم سب اس فلم کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ لوگوں کو اس بات کا حق ملنا چاہیئے کہ وہ جیسے چاہیں، فلم کے بارے میں کوئی رائے قائم کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں اب بھی یہ فلم سنیما گھروں میں دکھائی جا رہی ہے اور لوگ اسے دیکھنے کے لیئے جوق در جوق آ رہے ہیں۔
اگلے پندرہ دنوں میں یہ فلم فلسطینی علاقوں سمیت مشرقِ وسطیٰ میں بھی نمائش کے لیئے پیش کر دی جائے گی۔
اسرائیل کے ان بزرگوں کا ایک گروہ جو تین برس پہلے ایک خود کش بم حملے میں اپنے نوجوان بچوں سے محروم ہوگئے تھا، کہتا ہے کہ بتیس ہزار افرد نے اس فلم کی ایوارڈ کے لیئے نامزدگی کے خلاف ایک پٹیشن پر دستخط کیئے ہیں۔
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ فلم خودکش بمبار کا نشانہ بننے والوں کی اذیت سے صرفِ نظر کرتی ہے اور اس سے مزید حملوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔