http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 25 February, 2006, 13:51 GMT 18:51 PST

ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

’انڈین لافٹر چیلنج‘ میں پاکستانی فنکار

سٹار ون ٹی وی چینل پر ’گریٹ انڈین لافٹر چیلنج‘ (ہنسی کا مقابلہ ) نے اب اپنی سرحدیں پار کر لی ہیں یعنی اب اس مقابلہ میں بھارت ہی نہیں، پاکستان سے بھی ممکری (نقل اتارنے والے) آرٹسٹ حصہ لینے پہنچ گئے ہیں۔

گزشتہ برس ملک کے ممکری آرٹسٹوں کے درمیان ہنسی کا یہ مقابلہ منعقد کیا گیا تھا جس میں درجنوں کامیڈین نے شرکت کی تھی اور جج تھے بھارت کے مشہور ممکری آرٹسٹ اداکار اور میزبان شیکھر سمن اور نوجوت سنگھ سدھو۔

سٹار ٹی وی کے چیف آپریٹنگ افسر سمیر نائر کا کہنا ہے ’ہم نے اس سال کے مقابلہ کو زیادہ سخت بنانے اور زیادہ وسیع کرنے کے نظریہ سے پاکستان کے ممکری آرٹسٹوں کو بھی دعوت دی۔ وہاں کے معین اختر اور عمر شریف کو کون نہیں جانتا۔ اس لیئے اس مقابلہ میں ہم نے وہاں سے چار فنکاروں کا انتخاب کیا ہے جن میں عامر ریمبو، کاشف خان، کمال باسط اور ولی شیخ نے پروگرام کی پہلی کڑی کی شوٹنگ مکمل کر لی ہے اور وہ واپس چلے گئے ہیں ۔ہم پروگرام کے مطابق ہی انہیں ممبئی بلائیں گے‘۔

  لوگوں کو ہنسانا ایک مشکل فن ہے اور یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ایک فنکار اسی وقت مکمل فنکار کہلاتا ہے جو لوگوں کو ہنسانے کا فن جانتا ہو۔
 
شیکھر سمن

نائر کے مطابق اس پروگرام میں چار پاکستانی فنکاروں سمیت ساٹھ آرٹسٹ اپنے فن سے لوگوں کو ہنسانے کی کوشش کریں گے اور بارہ راؤنڈ کے بعد فیصلہ ہوگا۔
جج شیکھر سمن اس بات سے خوش ہیں کہ مقابلہ اب صرف ان کے ملک تک محدود نہیں ہے۔ پاکستانی فنکاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ چونکہ جج کی کرسی پر ہیں، ’اس لیئے کسی کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے لیکن عامر ریمبو کا انداز عمر شریف سے ملتا جلتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عامر خود عمر شریف کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں‘۔

ولی کے بارے میں شیکھر کا خیال تھا کہ وہ لوگوں کو ہنساتے ہیں لیکن ان کا چہرہ بالکل سپاٹ ہوتا ہے ولی نے بھی عمر شریف کے ساتھ کچھ شوز میں اداکاری کی ہے ۔

شیکھر کا خیال ہے کہ لوگوں کو ہنسانا ایک مشکل فن ہے اور یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان کے خیال میں ایک فنکار اسی وقت مکمل فنکار کہلاتا ہے جو لوگوں کو ہنسانے کا فن جانتا ہو۔

پاکستان کے دو ممکری آرٹسٹ معین اختر اور عمر شریف کو کون نہیں جانتا۔ جس طرح پاکستان میں بالی وڈ فلموں کی کیسیٹیں گھروں میں دیکھی جاتی ہیں اسی طرح عمر شریف کے ڈراموں کے کیسٹ بھارت میں مقبول ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ پاکستان کے یہ ممکری آرٹسٹ کس طرح اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔