Tuesday, 14 February, 2006, 15:58 GMT 20:58 PST
شیرازالدین صدیقی
بی بی سی، لندن
برطانیہ میں ان افغانوں کی زندگی پر پہلی فلم بنائی گئی ہے جو برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ افغان شہری گزشتہ 30 سال کے دوران افغانستان میں آنے والے حکمرانوں کے انداز اور تصور حکمرانی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں اپنا ملک چھوڑ چھوڑ کر برطانیہ آتے رہے ہیں۔
ہیتھرو کے ہوائی اڈے سے بس نمبر ایک سو پانچ آپ کو ساؤتھ ہال کے علاقے لے جا سکتی ہے۔ یہ علاقے ایشیائی اور خاص طور پر ہندوستانی اور پاکستانی برادری کا گڑھ ہے۔
جیسے ہی آپ علاقے کے اندرونی علاقے میں داخل ہوتے ہیں آپ کو رنگا رنگ ساڑھیاں، مزے مزے کے تیکھی کھانے اور ایسی مٹھائیاں نظر آئیں گی کہ آپ یہ بھی بھول جائیں گے کہ برطانیہ میں ہیں۔
یہیں ذرا دور آپ کو ایک پوسٹر دکھائی دے گا لیکن اگر آپ اسے غور سے دیکھیں گے تو اس پر آپ کو ’دری‘ زبان لکھی ہوئی ملے گی۔ یہ زبان افغانستان میں بولی جانے والی فارسی کی ایک شکل ہے۔
![]() | |
| یہ فلم ایک پناہگزین خاندان کی کہانی ہے |
برطانیہ 1979 میں روسی دراندازی کے بعد سے افغان پناہ گزینوں میں مقبول ترین ملک تھا۔
شروع شروع میں تو صرف وہ افغان برطانیہ آئے جو کھاتے پیتے خاندانوں کے تھے یا جن کے پاس خاطر خواہ وسائل تھے لیکن 1992 کی خانہ جنگی کے بعد پناہ گزینوں کی برطانیہ آمد بہت تیز ہو گئی۔
ان پناہ گزینوں میں فرید فیض بھی تھے جنہوں نے کابل یونیورسٹی سے 1980 کے وسط میں گریجویشن کیا اور اس کے بعد اداکاری کرنے لگے۔
فیض 1997 میں برطانیہ پہنچ پائے جس کے بعد انہوں نے قصائی، باورچی، کلرک اور آخر ٹیکسی ڈرائیوری شروع کی لیکن یہ تمام سخت کوشی بھی ان کی بھی انہیں اس خواب کی تعبیر تلاش کرنے سے نہیں روک سکی کہ انہیں فلم کی طرف لوٹنا ہے۔
احساس کا خاکہ تو لندن ہی میں تیار ہوا لیکن اس کی شوٹنگ ملبورن اور آسٹریلیا میں کی گئی جب کہ اس کی موسیقی کنیڈا میں لکھی اور تیار کی گئی۔
![]() | |
| پوری فلم دری زبان میں بنائی گئی ہے |
یہ فلم بارہ فروی سے لندن میں دکھائی جا رہی ہے اور اس سے پہلے آسٹریلیا میں بھی دکھائی جا چکی ہے۔