Tuesday, 24 January, 2006, 15:09 GMT 20:09 PST
عارف آزاد
لندن
ہالی وڈ کے مشہور ڈائریکٹر سٹیون سپیلبرگ کی نئی فلم ’میونخ‘ فلم بینوں، ناقدین، فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی توجہ کی خصوصی زد میں ہے۔
فلم کی شہرت یا بدنامی (جس کا جو بھی نقطۂ نظر ہے) کی وجہ میونخ اولمپک پر فلسطینی حملہ اور اسرائیلی اتھلیٹس کے قتل کے بعد وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی کہانی ہے۔ اس کہانی میں جاسوسی ڈائجسٹ کا سسپنس تو ہے ہی لیکن تنازعہ کی اصل وجہ اس کہانی کی توجیح ہے۔
فلم کا آغاز میونخ اولمپک گاؤں پر فلسطینی فدائی حملے اور اسرائیلی اتھلیٹس کے قتل کے ٹریلر سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں سے منظر اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میئر اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد پر منتقل ہوتا ہے۔ ایک اعلیٰ سطح کے خفیہ اجلاس میں ایک نوجوان اسرائیلی خفیہ ایجنٹ ایونر کو اسرائیلی اتھلیٹس کے قتل کے منصوبے میں ملوث فلسطینیوں کو چن چن کر قتل کرنے کا مشن سونپا جاتا ہے۔ اس مشن کا مقصد اینٹ کا جواب پتھر کے مصداق ہے تاکہ مستقبل میں کسی کو اسرائیلی باشندوں پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ ہو۔
قتل کے اس مشن کو حرکت میں لانے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک سے چار مزید خفیہ ایجنٹ بھرتی کیے جاتے ہیں۔ پانچ افراد پر مشتمل قتل کے اس مشن میں گیارہ فلسطینیوں کی ہِٹ لسٹ تیار کی جاتی ہے۔
روم، قبرص اور بیروت سے لے کر یورپ تک فلسطینی اس خوفناک سکواڈ کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں۔ دو تین فلسطینیوں کا قتل تو اس قدر بھیانک ہے کہ دیکھنے والے کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
![]() | |
| فلم کی زیادہ تر عکسبندی ہنگری اور مالٹا میں ہوئی ہے |
صرف جنوبی افریقہ کا یہودی اپنی انتہا پسندی میں قائم رہتا ہے۔ اس کے نزدیک ایک یہودی کی آنکھ کا بدلہ ایک فلسطینی کی آنکھ سے ہی لیا جا سکتا ہے۔ فلم کے اس پہلو کی اہمیت یہ ہے کہ یہ مزید سوالات کا سبب بنتا ہے۔ تمام اقسام کے سوالات قاتلوں کے ذہن میں گونجتے ہیں۔ ’کیا ہمیں وہی کرنا چاہیے جو ہمارے دشمن کر رہے ہیں؟ کیا جو لسٹ ہمیں فراہم کی گئی ہے اس پر موجود تمام لوگ واقعی یہودیوں کے قتل میں ملوث تھے؟‘
ان سوالات کی فلم میں موجودگی نے اسرائیلی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو خاصا ناراض کیا ہے۔ ان سوالات کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اسرائیلی ریاست یہودیوں کے نام پر کر رہی ہے کیا وہ جائز ہے؟
لیکن فلم کے لکھاری مشہور ڈرامہ نویس ٹونی کشر اگر ایسے اخلاقی اور نفسیاتی سوالات کو فلم میں شامل نہ کرتے تو فلم باقاعدہ طور پر ریاستی تشدد کو فروغ دینے کا سبب بن سکتی تھی۔
![]() | |
| سپیلبرگ(درمیان)، ایرک بانا اور جیمز بانڈ کے نئے ہیرو ڈینیئل کریگ کے ساتھ |
یہ فلم قابل دید اور قابل بحث ہے۔ فلم میں جن نفسیاتی اور اخلاقی سوالات کی نشاندہی کی گئی ہے وہ ہمارے دور کے بہت اہم سوالات ہیں۔ خاص طور پر آج کل کے دور میں جب دہشت گردی کی تعریف اور توجیح سیاسی ضرورتوں کے تحت کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ یہ فلم کینیڈا کے ایک صحافی کی کتاب ’خونی بدلہ‘ پر مبنی ہے۔ اس پر تنازعات اپنی جگہ مگر یہ فلم دیکھنے والے کے ذہن میں نئے سوالات ضرور ابھارتی ہے۔