Tuesday, 10 January, 2006, 12:49 GMT 17:49 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلّی
فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کے معاملے میں ہندوستان کے ائر مارشل پی ایس اہلو والیہ نے کہا ہے کہ ’فلم میں کسی بھی مناظر پر بھارتی فضائیہ کو اعتراض نہیں ہے اور فلم بہت اچھی ہے ‘۔
یہ بات بھارتی فضایہ نے فلم کی خصوصی پیشکش کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے۔
اس سے قبل بھارتی فضائیہ نے بالی وڈ کے سپر سٹار عامر خان کی آنے والی فلم’رنگ دے بسنتی‘ کے بعض مناظر پر اعتراض ظاہر کیا تھا اور وزیرِ دفاع پرنب مکھرجی خصوصی طور پر اس فلم کو دیکھنے آئے تھے۔
فلم کی خصوصی سکریننگ ميں ’رنگ دے بستی‘ کے ہدایت کار راکیش اوم پرکاش سمیت اداکار عامر خان اور سنسر بورڈ کی چئر پرسن شرمیلا ٹیگور بھی موجود تھیں۔ وزیر دفاع تو فلم ختم ہونے کے بعد بلا کچھ کہے چلے گئے۔
دوسری جانب شرمیلا ٹیگور نے پوری فلم نہیں دیکھی اور فلم اسکرینگ کے درمیان ہی وہ چلیں گئيں۔ باہر آکر محترمہ ٹیگور نے کہا ’فلم خاصی دلچسپ ہے اور اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس پر کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے‘۔
’رنگ دے بسنتی‘ سنہ 2006 میں ریلیز ہونے والی پہلی قابل ذکر بھارتی فلم ہے۔
اطلاعات کے مطابق مذکورہ فلم میں سیاسی لیڈروں اور دفاعی شعبے کے اہلکاروں کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں بھارتی ایئر فورس کے ’مِگ‘ طیاروں کے متعدد حادثوں پر بھی طنز کیا گیا ہے۔
ابھی یہ پوری طرح واضح نہیں ہے کہ فضائیہ کو اس فلم کے کس کس مناظر پر اعتراض ہے اور ممکن ہے کہ یہ فلم اب ذرا تاخیر سے ریلیز ہو۔ طے شدہ پروگرام کے تحت اسے آئندہ ہفتے ریلیز ہونا ہے۔
’ رنگے دے بسنتی‘کے ہدایت کار راکیش اوم پرکاش مہرا ہیں۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک نوجوان برطانوی فلم میکر تحریک آزادی میں حصہ لینے والے رہنماؤں پر فلم بنانے ہندوستان آتی ہے۔ یہ رول برطانوی اداکارہ الائیس پیٹن نے ادا کیا ہے جو ہانگ کانگ کے آخری گورنر کرس پیٹن کی بیٹی ہیں۔
فلم میں اداکاری کے لیے الائیس کالج کے پانچ طلباء کو دعوت دیتی ہیں لیکن طلباء یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ وہ ’فریڈم فائٹر‘ جیسے نہیں لگتے ہیں۔ عامر خان نے اس فلم میں اہم رول اداکیا ہے ۔ گزشتہ برس انکی فلم منگل پانڈے تاریخی موضوع پر تھی اور اسکے کرداروں کے متعلق بھی تنازعہ ہوا تھا۔