Saturday, 10 December, 2005, 21:30 GMT 02:30 PST
طالبان کےدورمیں افغانستان سے فرار ہونے والی مسلمان لڑکی حماسہ کوہستانی نے مقابلہ حسن میں برطانیہ کی نمائندگی کی۔
چین میں ہونے والے مقابلے حماسہ کو تیسری پوزیشن کے فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا لیکن وہ کوئی پوزیشن جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
چین میں انیس سو اننچاس میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد حکام نے اس طرح کے مقابلوں کو یہ کہہ کر بند کر دیا تھا کہ یہ محض استحصال ہے۔
حال ہی میں چین میں اس قسم کے مقابلوں پر عائد پابندی ختم کی گئی ہے۔ چینی منتظمیں کے مطابق جزیرے حینان میں ہونے والے اس مقابلہ حسن کو تقریباً دو ارب افراد نے دیکھا ہے۔
قدامت پسند مسلمانوں نے حماسہکوہستانی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔
حماسہکوہستانی اپنے ماں باپ کے ساتھ 1996 میں ازبکستان کے راستے افغانستان سے فرار ہو کر دوبئی پہنچیں جہاں سے وہ برطانیہ آگئیں۔
حماسہ کوہستانی کے والد خوشحال نے کھانے کی دوکان کھولی جب کہ اس کی والدہ ایک مترجم کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔
حماسہ کوہستانی بطور ماڈل بھی کام کرتی رہی ہیں اور سپر ڈرگ کے اشتہاروں میں کام کر چکی ہیں اور اب ان کو بالی وڈ فلموں میں کام کرنے کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔
چین میں شاید ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پچھلے چند دنوں کے دوران ایک سو چھ ممالک سے آئی ہوئی خوبصورت لڑکیاں کیمروں کے سامنے چین کے تاریخی مقامات اور دلکش جگہوں پرآ جا رہی تھیں۔
ججوں میں مارشل آرٹس کے لیے ہالی وڈ کے مشہور اداکار جیکی چین اور دو ہزار ایک میں مس ورلڈ کا اعزاز حاصل کرنے والی نائجیریا کی اگبانی داریگو شامل تھیں۔