Sunday, 30 October, 2005, 08:36 GMT 13:36 PST
مائیکل جیکسن پر جنسی زیادتی کا الزام لگانے والے ایک لڑکے کی ماں جینٹ ارویزو عدالت میں پیش ہو گئی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے ملنے والی مالی مدد یا ویلفیر میں فراڈ کیاتھا۔
جینٹ ارویزو نے اپنے وکیل کے ذریعے مقدمے کی تاریخ ملتوی کرانے کی کوشش کی تھی لیکن جج نے انہیں لاس اینجلس کی عدالت میں حاضر ہونے کے لیے کہا۔
جینٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے حکومت سے 18782 ڈالر کی رقم غیر قانونی طور پر وصول کی۔ عدالت میں پیشی کے بعد جج نے جینٹ کے وکیل کی درخواست پر مقدمے کی سماعت انیس دسمبر تک ملتوی کر دی۔
استغاثہ کے وکلاء کے مطابق جینٹ کی مالی امداد کی وصولی غیر قانونی تھی کیونکہ انہوں نے یہ بات پوشیدہ رکھی تھی کہ ایک شاپنگ سٹور کے خلاف دعوے کے فیصلے میں انہیں 150,000 ڈالر ملے تھے جس کی وجہ سے وہ مالی امداد کی مستحق نہیں رہی تھیں۔
سینتیس سالہ جینٹ اپنی پہلی پیشی کے دوران زیادہ تر خاموش رہیں اور عدالت کے باہر بھی انہوں نے اخباری نمائندوں کے سوالوں کے جواب دینے سے معذوری ظاہر کی۔
واضح رہے کہ مائیکل جیکسن کے خلاف جنسی زیادتی کے مقدمے کے دوران جینٹ ارویزو نےامریکی قانون میں پانچویں ترمیم کی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ویلفیرفراڈ کو بنیاد بنا کر کسی کی تضحیک نہیں کی جا سکتی۔ اسی ترمیم کی رو سے انہوں نے مقدمے کے دوران ویلفیر فراڈ کے بارے میں سوال و جواب سے انکار کیا تھا۔