Tuesday, 04 October, 2005, 12:34 GMT 17:34 PST
عنبر خیری
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
لندن کی ’سٹوڈیو آرٹ گیلری‘ میں پاکستانی مصورہ نصرہ لطیف قریشی کی نمائش جاری ہے۔
اکیس ستمبر کو شروع ہونے والی اس نمائش میں مصورہ نے ایسی پینٹنگز رکھی ہیں جن میں نہ صرف روایتی طریقۂ کار استعمال کیا گیا ہے بلکہ دور حاضر کے موضوعات کا اظہار کرنے کے لیے روایتی امیجز کا سہارہ لیا گیا ہے۔
مصورہ کا کہنا ہے کہ مغل دور کے کرداروں کا استعمال وہ سیاسی اور تاریخی موضوعات پر تبصرے کے لیے کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں برطانوی راج کے وائسرائے کا ذکر ہے اور اشارہ عراق کی موجودہ صورتحال کی طرف ہے۔
وہ نو آبادیاتی نظام اور برصغیر میں برطانوی راج پر مسلسل غور کر کے یہ جانچنا چاہتی ہیں کہ ہم نے’ کیا کھویا اور کیا پایا‘۔ وہ کہتی ہیں کہ کھوئی ہوئی ان چیزوں میں ’ہماری روایات، ہمارے فن، ہمارے کپڑے اور یہاں تک ، ہماری اس زمین کے پودے شامل ہیں۔‘ ان ساری چیزوں کی جھلکیاں ان پینٹنگز میں مثجود ہیں۔
این سی اے کی ’نیو منیئچر‘ تحریک
نصرہ لطیف قریشی نیشنل کالج آف آرٹس یعنی این سی اے کے ان نئے مصوروں میں شامل ہیں جنہوں نے برصغیر میں منیئچر تصاویر بنانے کے پرانے طریقہ کار کو اپنایا ہے۔ منیئچر پینٹنگ ایک عرصے سے این سی اے کے کورس کا حصہ رہا ہے لیکن ماضی میں اس کی اہمیت بہت کم ہوتی تھی کیونکہ اسے ایک کم تر قسم کا سشعبہ سمجھا جاتا تھا اور خیال تھا کہ اس میں فنی تخلیق و اظہار کی گنجائش کم ہے۔
اس نوعیت کا کام کرنے والے آرٹسٹوں میں سر فہرست عائشہ خالد محمود، عمران قریشی، عثمان سعید، سائرہ وسیم اور طلحہ راٹھور ہیں۔
لیکن روایتی کاغذ یعنی وصلی اور روایتی برش بنانے کے ساتھ ساتھ بہت سے مصور اب کمپیوٹر سے بھی کام لیتے ہیں اور یوں وہ مصوری کی اس ’زبان‘ کو کمپیوٹر کے دور میں لے آئے ہیں۔
’ایکٹس آف کمپلائینس‘
ان تخلیق کاروں کی برصغیر کی روایتی تکنیک اور فن کی طرف جانے کی یہ تحریک کچھ بہت دلچسپ نتائج سامنے لا سکی ہے۔
![]() | |
| اس نمائش کا ٹائٹل ’ایکٹس آف کمپلائینس‘ ہے |
ایسے میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر آپ کی بنیادی کوشش یہ ہے کہ آپ اپنی سر زمین کے روایتی فن کو استعمال کر رہیں ہیں اور آپ کی کوشش یہ ہے کہ آپ کے فن کا تعلق آپ کی زندگی اور آپ کے زبان سے ہو تو پھر نمائش کا ٹائٹل کا بھی تو ان سے تعلق ہونا چاہیے۔
’گرین کارڈمم‘
لند کی نمائش کا اہتمام ’گرین کارڈمم‘ نے کیا ہے۔ یہ تنظیم لندن میں مقیم میاں بیوی کی ٹیم انیتا داود ناصر اور حماد ناصر نے قائم کی ہے۔ اس سے پہلے والی نمائش بھی بہت دلچسپ تھی کیونکہ اس میں ایک اسرائیلی اور ایک فلسطینی نے مشترکہ شو کیا تھا۔ گرین کارڈمم کے حماد ناصر کئی’نیو منیئچر‘ مصوروں پر ایک کتاب بھی ترتیب دے رہے ہیں۔