Friday, 01 July, 2005, 17:08 GMT 22:08 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
1940 کے عشرے میں لاہور شمالی ہندوستان کے فلمی سرکٹ کا اہم ترین مرکز بن چُکا تھا۔ اس سرکٹ میں پنجاب، سندھ، اور سرحد کےعلاوہ دہلی اور یُو پی کا تمام علاقہ شامل تھا چنانچہ کسی فلم پر لاہور کے ناظرین کا ردِ عمل اسکی کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ بن چُکا تھا۔ لاہور کی اس اہمیت کا براہِ راست اثر یہاں کی فلمی صحافت میں نظر آتا تھا۔ شہر میں پچاس کے قریب بارسوخ فلمی صحافی تھے جن میں سےبیشتر انگریزی میں لکھتے تھے۔
ماہنامہ ’ اداکار‘ کے اجراء کے بعد اُردو کے فلمی صحافی بھی منظرِ عام پر آئے لیکن ہندی میں فلمی صحافت کے لئے لاہور کا ماحول سازگار ثابت نہ ہوا۔
انگریزی اور اُردو کے فلمی صحافیوں کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی فلم کا پریمئر لاہور کے نام ور صحافیوں کے بغیر ادھورا سمجھاجاتا تھا۔
دلسکھ پنچولی اپنی ہر فلم کے افتتاحی شو پر لاہور کے تمام صحافیوں کو مدعو کرتے اور اگر کوئی صحافی شو پر نہ آتاتو اگلے روز اسکی خیریت معلوم کرنے اُس کے گھر پہنچ جاتےاور اسکی غیر حاضری کا گلہ شکوہ کرتے ۔
لاہور کے تمام فلمی رسالوں میں مواد کی نوعیت اور ترتیب و پیشکش کا اندازہ تقریباً ایک سا تھا یعنی لاہور کی فلمی خبریں، کسی اداکار یا اداکارہ کا با تصویر انٹر ویو ، کسی ڈائریکٹر یا پروڈیوسر سے بات چیت، کلکتے اور بمبئی کی فلمی ڈائری، فلمی گپ شپ کا کالم اور ایک آدھ ہلکا پھلکا، عموماً بے ضرر سا سکینڈل۔ البتہ جو دھڑے بندیاں لاہور کی فلمی دنیا میں موجود تھیں وہی فلمی رسالوں میں بھی نظر آتی تھیں اور کسی بھی رسالے کو ایک نظر دیکھ کر بتایا جا سکتا تھا کہ یہ کونسے فلمی دھڑے کی حمایت کرتا ہے۔
![]() لاہور کی پروڈکشن ’شہر سے دور‘ (1946) کا ایک یادگار پوسٹر |
![]() لاہور شمالی ہندوستان میں فلم سازی کا واحد مرکز تھا |
لاہور میں جو پروڈیوسر مہنگی فلم بنانے کی استطاعت رکھتے تھے وہ کلکتے اور بمبئی سے بھی آرٹسٹ منگوا لیتے تھے چنانچہ اس زمانے میں جدن بائی ( نرگس کی والدہ ) رتن بائی، رینوکا دیوی، جینت، شانتا اپٹے اور کئی معروف آرٹسٹوں نے لاہور آ کر یہان کی فلموں میں کام کیا ۔ لیکن آرٹسٹوں کا بہاؤ اُلٹی سمت میں بھی جاری رہا یعنی لاہور میں نام پیدا کرنے کے بعد اداکار بمبئی کا رخ کرتے تھے۔ تقسیمِ ملک کے وقت یہ بہاؤ تیز تر ہو گیا۔
پاکستان قائم ہوا تو چند جلی ہوئی عمارتیں، کچھ ٹوٹا پھوٹا تکنیکی سامان، کچھ سہمے ہوئے اداکار اور پریشان حال پروڈیوسر – یہ تھا یہاں کا کُل فلمی اثاثہ۔ لیکن بعد کے بیس برسوں میں اسی بے سروسامانی کی کوکھ سے اُس دھڑکتی پھڑکتی فلمی صنعت نے جنم لیا جو سال میں ایک سو سے زیادہ فلمیں مارکیٹ میں لاتی تھی اور جس کے دامن سے لاکھوں افراد کا روز گار وابستہ تھا۔
(جاری ہے)