Monday, 20 June, 2005, 20:13 GMT 01:13 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
سندھ اور بلوچستان کے فلم ڈسٹری بیوٹرز نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت نے اگر تفریحی ٹیکس کی وصولی بند نہ کی تو تباہی کے کنارے پر کھڑی یہ انڈسٹری ٹھپ ہو جائےگی۔
پاکستان فلم ڈسٹری بیوٹرز کی تنظیم کے عہدیداروں ندیم مانڈہ والا، شیخ عدیل اور حاجی ابراہیم نے کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کرنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے تفریحی ٹیکس ختم کردیا ہے لیکن صوبائی حکومت اس ٹیکس کی مد میں ایک سے دو ہزار روپے تک روزانہ ایک سنیما سے وصول کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سے بات چیت ہوئی جس میں انہوں نے یہ ٹیکس وصول نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن ان کی یقین دہانی کے باوجود ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔
فلم ڈسٹری بیوٹرز کے نمائندوں نے کہا کہ ابھی سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس چل رہا ہے اس لیے اس ٹیکس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں کیاگیا تو فلم انڈسٹری کا کاروبار ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک سو دس سنیما تھے جس میں سے اب صرف چھتیس بچے ہیں۔
یاد رہے کہ سندھ اسمبلی کے گذشتہ اجلاس میں سرکاری طور پر بتایاگیا تھا کہ سندھ میں 204 سنیماؤں میں سے ایک سو انتالیس بند ہیں اور صرف 75 سینماگھرچل رہے ہیں۔ سینما مالکان نے ان تفریحی مقامات پر پلازا اور کمرشل مارکیٹیں تعمیر کرا لی ہیں۔
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کل 97 سنیما گھر تھے جن میں سے صرف چونتیس چل رہے ہیں اور تریسٹھ بند ہیں۔ حیدرآباد میں تیرہ سینما چل رہے ہیں جبکہ سترہ بند ہیں۔
سنیما مالکان کا کہنا ہے کہ فلموں کا کاروبار کم ہو جانے کے بعد سینما میں دھندا کم ہوگیا جس کے نتیجے میں مالکان نے ان مقامات پر شاپنگ سنٹر اور مارکیٹیں تعمیر کرادی ہیں۔