Thursday, 09 June, 2005, 15:24 GMT 20:24 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
دلسکھ ایم پنچولی ایک ڈسٹری بیوٹر کے طور پر بمبئی سے لاہور آئے تھے لیکن یہاں آکر انھوں نے فلم سازی کا کام شروع کر دیا اور جو سفر گُل بکاؤلی نام کی فلم سے شروع ہوا تھا وہ عزت شہرت اور دولت کی منزلوں سے گزرتا ہوا خزانچی، خاندان، زمیندار اور پونجی تک آن پہنچا۔ لیکن وہ جو کہا گیا ہے کہ ’ہر کمالے را زوالے‘ یعنی عروج پر پہنچنے والی ہر شے ایک دن زوال کا سامنا بھی کرتی ہے، تو فلم ’شیریں فرہاد‘ پنچولی کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
اس وقت پنچولی کے پاس پیسے کی کمی نہ تھی اور فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والا ہر شخص اُن کے ساتھ کام کرنے میں فخر محسوس کرتا تھا۔
فلم شیریں فرہاد کا منصوبہ بڑی آرزؤں اور امنگوں کے ساتھ تیار کیا گیا تھا اور پنچولی نے اپنی ساری ٹیم پر واضح کر دیا تھا کہ اس پروڈکشن کے سلسلے میں انھیں اخراجات کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ ہندوستانی سنیما کی سب سے بڑی فلم بنانا چاہتے ہیں۔
شیریں فرہاد کے قصے کو ایک نئے ڈھنگ سے لکھنے کے لئے لاہور کے معروف ترین مصنف امتیاز علی تاج کی خدمات حاصل کی گئیں جنھوں نے کہانی کو جدید رنگ دینے اور مناظر میں شان و شکوہ پیدا کرنے کے لئے فرہاد کو ایک ایسے انجنیئر کا روپ دے دیا جس کی نگرانی میں ہزاروں مزدور ایک نہر کی کھدائی میں مصروف ہیں۔(اس مقصد کے لئے بیدیاں نہر کی کھدائی کے اصل شاٹس استعمال کئے گئے)
![]() 1938 کی فلم گل بکالی کا پوسٹر |
خسرو پرویز کے شاندارمحل کا جو نقشہ پنچولی کے ذہن میں تھا اسے عملی شکل دینا کسی عام آرٹ ڈائریکٹر کے بس کی بات نہ تھی چنانچہ بڑی ردّوکد کے بعد این ایم خواجہ کو اس کام پر مامور کیا گیا جنھوں نے اُس وقت تک کی ہندوستانی فلمی تاریخ کے سب سے بڑے سیٹ تیار کرائے اور ان کی تزئین و آرائش پر اپنا سارا ہُنر صرف کر دیا۔
فلم کی موسیقی کے لئے اُس زمانے کے سب سے کامیاب موسیقار غلام حیدر پر پنچولی کی نگاہ تھی لیکن انہیں بمبئی سے بلاوے پر بلاوے آرہے تھے چنانچہ پروڈ کشن والوں کی کسی معمولی سی بات پہ ناراض ہو کر غلام حیدر عازمِ بمبئی ہو گئے اور شیریں فرہاد کی موسیقی مرتب کرنے کا بھاری فریضہ ایک غیر معروف مگر ہونہار نوجوان کے کاندھوں پر آن پڑا۔ اس نوجوان کا نام تھا رشید عطرے۔
ابھی فلم زیرِتکمیل ہی تھی کہ سارے ہندوستان میں اس کی دھوم مچ گئی اور تقسیم کاروں نے بڑی بڑی رقوم کا ایڈوانس پیش کرنا شروع کر دیا۔ یہ فلم اٹھارہ لاکھ میں فروخت ہوئی جو کہ اُس زمانے کے لحاظ سے ایک محّیرالعقول رقم تھی۔ جس طمطراق سے یہ فلم نمائش کے لئے پیش ہوئی تھی اتنی ہی شدید لعن طعن سے ناظرین نے اسے مسترد کر دیا۔
![]() جینت اور راگنی فلم شیریں فرہاد میں |
کوہکن گُرسنہ مزدورِ طرب گاہِ رقیب
بے ستوں آئینہِ خوابِ گرانِ شیریں
( بھوکا فرہاد اپنے رقیب کے محل میں مزدوری کر رہا ہے اور شیریں اس کے رنج و مشقّت سے بے خبر، گہری نیند سو رہی ہے۔)
مزے کی بات یہ ہے کہ شیریں فرہاد کے ساتھ ہی ایک چھوٹے بجٹ کی غریبانہ سی فلم ’ داسی ‘ بھی ریلیز ہوئی تھی جس میں نجم الحسن کے مقابل راگنی نے کام کیا تھا۔ ہدایت کار ہیرن بوس کی یہ فلم سُپر ہٹ ثابت ہوئی۔
شیریں فرہاد کے فلاپ ہوتے ہی لالی وڈ کے محل پر دس برس سے لہراتا پنچولی کا پھریرا سرنگوں ہو گیا اور لاہور کا فلمی قافلہ نہر کنارے سے کُوچ کر کے ملتان روڈ پر آن خیمہ زن ہُوا۔
لیکن یہ ایک الگ داستان ہے۔ (جاری ہے)