Saturday, 02 April, 2005, 14:45 GMT 19:45 PST
مشہور امریکی گلوکار مائیکل جیکسن کے وکلاء نے عدالت سے درخوست کی ہے کہ وہ ان کے بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی کے مقدمہ کو غیر قانونی قرار دیں کیونکہ ایک گواہ نے عدالتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدالت سے باہر شواہد پر بحث کی ہے۔
جیکسن کے وکلاء نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ ایک گواہ نے عدالتی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ جج نے کہا کہ وہ وکیل صفائی کی درخواست پر آئندہ ہفتے ہیں غور کریں گے۔
مائیکل جیکسن نے اپنے خلاف دس الزامات کی جن میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں شامل ہے، تردید کی ہے۔
جمعہ کو سماعت کے دوران عدالت نے پہلی بار جیکسن کے خلاف بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے پرانے الزامات سنے۔ مدعی کے وکیل لیری فیلڈمین نے بتایا کہ انیس سو ترانوے میں جیکسن نے عدالت سے باہر زیادتی کا شکار ہونے والے ایک بچے کو بھاری رقم ادا کی تھی۔
موجودہ مقدمے پر بحث کرتے ہوئے وکیل نے کہا کہ زیادتی کا شکار ہونے والے گیون اروزو کے خاندان نے سرکاری اہلکاروں کو خبردار کرنے سے پہلے ان سے قانونی مشورہ لیا تھا۔
تاہم انہوں نے واضع کیا کہ وہ جیکسن کے خلاف دیوانی مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
ایک اور موقع پر ایک تحقیقاتی ماہر نے پاپ سٹار کے گھر ’نیور لینڈ‘ پر ساٹھ افراد کے ہمراہ چھاپے کو جائز قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران جیکسن کے کمرے میں سے موجودہ مدعی کے ڈی این اے براآمد نہیں ہوا۔
زیادتی کا شکار ہونے والے مدعی اور اس کے بھائی نے الزام لگایا ہے کہ وہ اکثر جیکسن کے کمرے میں ان کے بستر میں سوتے رہے ہیں۔