Thursday, 24 March, 2005, 12:47 GMT 17:47 PST
مائیکل جیکسن پر عائد مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے استغاثہ کو حکم دیا ہے کہ وہ جیوری کو مائیکل جیکسن کے کمپیوٹر میں محفوظ برہنہ تصاویر نہ دکھائے۔
عدالت کے جج روڈنی ملول کا کہنا تھا کہ یہ مواد مقدمے کے موجودہ وقت سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ کہ اس بات کا پتہ لگانا ناممکن ہے کہ یہ مواد کس شخص نے دیکھا ہے۔
اس سے قبل استغاثہ نے عدالتی کارروائی کے آغاز کے بعد جج سے برہنہ تصاویر پر مشتمل نئے ثبوتوں کو پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ ثبوت ان کے مقدمے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
مائیکل جیکسن کے وکیل نے کہا کہ یہ تصاویر ان کمپیوٹروں پر دانستہ طور پر ڈاؤن لوڈ نہیں کی گئی تھیں بلکہ معمول کی ویب براؤزنگ کے دوران کمپیوٹر پر محفوظ ہوگئی تھیں۔
گیون آرویزو نامی پندرہ سالہ بچے نے مائیکل جیکسن پر الزام لگایا تھا کہ 2003 میں مائیکل جیکسن کی رہائشگاہ نیورلینڈ میں رہائش کے دوران مائیکل نے اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
مائیکل جیکسن اپنے اوپر عائد دس الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں۔ ان الزامات میں بچوں سے بدفعلی اور انہیں حبسِ بےجا میں رکھنے کا الزام بھی شامل ہے۔