http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 10 February, 2005, 17:59 GMT 22:59 PST

انوارالحسن
بی بی سی، اردو سروس، لندن

سِرک ڈُو سولے کی طلسماتی دنیا

ڈریلین اِس سرکس گروپ کا ایک ایسا شو ہے جس میں دنیا بھر کے فنکار زندگی میں مٹی ، ہوا، پانی اور آگ کاتجریدی تعلق ایک اچھوتے انداز میں پیش کرتے ہیں۔

لندن کے رائل البرٹ ہال میں حال ہی میں دکھایا جانے والا ڈریلین نامی یہ شو سرک ڈو سولے کی اُن تخلیقات میں سے ایک ہے جنہوں نے 1984 سے آسٹریلیا سے امریکہ تک تماشائیوں میں مقبولیت کے نئے جھنڈے گاڑے ہیں۔

فرانسیسی زبان میں ’سرک ڈو سولے کا اردو ترجمہ سورج کا سرکس ہے ۔ ویسے تو کئی زاویوں سے اِس گروپ کی تخلیقات دوسرے ہم عصر تھیٹر سے منفرد ہیں لیکن کینیڈا کے فرانسیسی زبان بولنے والے صوبے کوبیک سے جنم لینے والا یہ سرکس بغیر کسی جانور کی مدد کے سرکس کے فن کو مستقبل میں لے جانے کا بلا شرکت غیرِ زمہ دار ہے۔
چینی جمناسٹ
چینی فنکاروں کا انسانی مینار

شو کے شروع میں جب مسخروں نے اپنا مسخرہ پن شروع کیا تو مجھ سمیت تمام تماشائی خاصے محضوظ ہوئے لیکن جب ایک مسخرے نے اگلی مہنگی نشستوں پر بیٹھے تماشائیوں کو اپنی حرکتوں میں شامل کرنا شروع کیا تو میرا نسبتاً سستی نشست پر بیٹھنے کا غم کچھ غلط ہوا

اور اُس وقت تو اپنی غربت پر رشک آنا شروع ہوگیا جب مسخرے نے ایک تماشائی سے ایک کے بعد دوسرے بازو کو بلند کرنے کی فرمائش کی اور جب وہ بدنصیب تماشائی کھچاکھچ بھرے رائل البرٹ ہال میں ہینڈز اپ ہوگیا تو ایک دوسرا مسخرہ نہایت پھرتی سے بیچارے کی قمیض اتار کر لے بھاگا۔

مغربی دنیا میں جانوروں سے برے سلوک کی تو اجازت نہیں شاید تماشائیوں سے برے سلوک کی کوئی تنظیم تاحال وجود میں نہیں آئی۔ لہذٰا یہ سرکس تماشائیوں سے تاریخ میں انسانی تفننِ طبع میں جانوروں کے استعمال کا بدلہ لے رہا ہے۔ خیر اُس وقت جان میں جان آئی جب وہ قلابازیاں کھاتا تماشائی اِسی سرکس کا ایک بازی گر نکلا۔
ڈریلین کی ایک بازی گر
دم بخود کردینے والے کرتب سرک ڈو سولے کا خاصہ ہیں
مسخروں کے بعد شروع ہونے والے شو نے اگلے دو گھنٹوں کے لیے کھلی آنکھوں کے سامنے ایک ایسی جادوئی دنیا تخلیق کی جس میں بعض اوقات سانس لینا بھی وقت کا ضیاع لگتا ہے۔ سازیندوں،گائیکوں اور بازیگروں نے الیکٹرونک دنیا کی ہر جدید ایجاد کو ذہن کو مسحور کردینے والے مربوط انداز میں استعمال کیا۔

اس شو کو دیکھنے کا تجربہ ایسا ہی ہے جیسے رات سونے سے پہلے کوئی جادوئی کہانی سنائی جارہی ہو فرق صرف اتنا کہ کہانی دادی امُاں کے بجائے ملٹی میڈیا کی مدد سے نہ صرف سنائی بلکہ دکھائی بھی جارہی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں مسخرے تماشائیوں کو کہانی کا حصُہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتےاور جہاں اختراعی روائیتی چینی اژدھے اور شیروں کے لبادے اوڑھے بازی گر سٹیج پر بڑی بڑی چوبی گیندوں کو اپنے پیروں تلے لڑھکاتے اور بیک وقت اُن پر ناقابل یقین انداز میں قلابازیاں لگاتے چلے آرہے ہوں ۔
ڈریلین
کمپیوٹر سے کنٹرول کی جانے والی لائیٹوں نے ڈریلین کو ایک طلسماتی ماحول دیا

ڈرالین کے ہدایتکار، گائے کیرون کہتے ہیں ’ڈریلین مستقبل کی جہت میں ایک غیر معمولی سفر ہے ۔ ایک ایسی جگہ جہاں وقت کا تعین نہیں اور جہاں صرف جادوئی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے‘

سرک ڈو سولے کا تخلیقی سفر

سرک ڈو سولے کا باقاعدہ وجود 1984 میں ہوا جب ژاک کارتیئر کے ہاتھوں کینیڈا کی دریافت کی 450 ویں سالگرہ کے موقع پر انکے شو کا منصوبہ کیوبک کینیڈا میں منظور کیا گیا۔

اس گروپ میں شامل کئی فنکار ابتدائی دنوں میں کینیڈا کے شہر کوبیک سٹی کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے، بے ساں پول میں سڑکوں پر مختلف کرتبوں سے تماشائیوں کا دل بہلاتے تھے۔
چینی فنکار
چینی فنکاروں کا کھمبوں کے ساتھ رقص

1984 میں اِس گروپ کے لیے 73 افراد کام کرتے تھے۔ اِس وقت 700 فنکاروں سمیت تقریبا 3000 ملازمین اِس گروپ کے لیے دنیا کے مختلف شہروں میں کام کرتے ہیں جبکہ اِن کے ہیڈ کوارٹر، مانٹریال، کینیڈا میں 1600 افراد کام کرتے ہیں۔

ملازمین اور فنکار40 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور 25 مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ 1984 سے اب تک اس سرکس نے دنیا کے 100 شہروں میں 250 مرتبہ تقریبا 42 ملین تماشائیوں کو اپنے فن سے محظوظ کیا ہے۔

سرک ڈو سولے کا اگلا شو ’سالتیمبانکو‘ 24 فروری 2005 سے برمنگھم، برطانیہ میں منعقد ہورہا ہے۔