Saturday, 30 October, 2004, 16:30 GMT 21:30 PST
امریکی انتخابات میں جارج بش اور جان کیری دونوں ہی فلمی ستاروں کے ساتھ انتخابی مہم کے دوران نظر آئے ہیں۔
اگرچہ گلیمر کی دنیا کے بڑے ناموں نے جن میں نیئل ڈائمنڈ، بین سلیٹر، رابرٹ ڈینیرو، لیئرنارڈو ڈیکیپریو شامل ہیں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار جان کیری کی کھلی حمایت کی ہے اور ان کے لیے فنڈز بھی اکٹھے کیے ہیں، صدر بش کے زیادہ تر حمایتی ستارے سپاٹ لائٹ سے دور ہی رہے ہیں۔
کئی ایک مشہور شخصیات نے صدر بش کے دہشت گردی کے خلاف آپریشن اور عراق میں جنگ کے فیصلے کی حمایت کی ہے لیکن بہت کم ہیں جنہوں نے کھل کر اور بلند بانگ اس کے حق میں بات کی ہو۔
جمعہ کو لاس انجلیس میں مقیم برطانوی گلوکارہ موریسے نے کہا کہ جان کیری کو ووٹ دینا ’منطقی اور دانشمندانہ‘ ہے۔ انہوں نے کہا صدر بش نے امریکہ کو ایک اعصابی مریض اور دہشت کا اسیر بنا دیا ہے۔
![]() شیرل کرو بش مخالف مہم میں پیش پیش ہیں |
معروف گلوکاروں کے ایک گروپ نے امریکہ کی کئی ریاستوں میں گیارہ دنوں کا ایک دورہ کیا ہے۔ اس ’ووٹ فار چینج‘ نامی دورے میں بروس سپرنگسٹین، پرل جام، آر ای ایم، دی ڈکسی چکس نامی میوزیکل بینڈ شامل تھے اور انہوں نے ووٹروں سے درخواست کی کہ وہ جان کیری کو ووٹ دیں۔
جمعرات کو ’دی باس‘ گروپ نے وسکنسن اور اوہیو جان کیری کی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور اسی ہزار کے مجمع کے سامنے اپنا مشہور گانا ’نو سرنڈر‘ گایا۔
![]() آرنلڈ شوارزنیگر صدر بش کو ایک باصلاحیت رہنما سمجھتے ہیں |
کیلیفورنیا کے گورنر اور ہالی وڈ کے مشہور اداکار آرنلڈ شوارزنیگر ان میں سے ایک ہیں۔
ستمبر میں ریپبلکن کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صدر بش کی قیادت کو بحثیت امریکہ کے 43 ویں صدر کے بہت سراہا تھا۔
امریکی ڈرامے ’فریزر‘ کے اداکار کیلسے گرامر صدر بش کے بڑے مداح ہیں، جبکہ گلوکارہ ریبا میکینٹائیر نے بش کی انتخابی مہم میں چندہ دیا ہے۔
تاہم صدر بش کے حمایتی ستارے زیادہ تر ملکی سطح پر جانے جاتے ہیں جبکہ کیری کے حمایتی ستاروں سے امریکہ سے باہر بھی لوگ آشنا ہیں۔