Friday, 25 June, 2004, 03:18 GMT 08:18 PST
عنبر خیری
بی بی سی اردو، لندن
امیتابھ بچن کی نئی فلم پچیس جون کو دنیا بھر میں ریلیز ہو رہی ہے۔ فلم کا نام ’دیوار‘ ہے لیکن یہ انیس سو پچھتر کی ان کی اسی نام کی فلم سے بہت مختلف ہے اور کہانی پاکستان میں طے پاتی ہے۔
انیس سو اکہتر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد جب جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہوا تو کئی پاکستانی فوجیوں کے علاوہ تقریبا 54 بھارتی فوجی لا پتہ رہے۔دونوں حکومتوں کا موقف رہا ہے کہ لاپتہ افراد کے بارے میں ان کو کچھ معلوم نہیں لیکن ان فوجیوں کے عزیز و اقارب کے خیال میں دونوں حکومتیں اس موضوع پر جھوٹ بولتی رہی ہیں۔
لاپتہ جنگی قیدیوں کے معمے کو نئی انڈین فلم ’دیوار‘ کی کہانی کی بنیاد بنایا گیا ہے ۔ اس فلم میں امیتابھ بچن میجر رنویر کول کا کردار ادا کرتے ہیں جو اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پچھلے تینتیس سال سے ایک پاکستانی جیل میں قید ہیں جہاں ان پر شدید مظالم کیے جاتے ہے۔
’ظالم‘ پاکستانی افسر کی نفرت اور ظلم کے باوجود میجر صاحب ہمت نہیں ہارتے اور اپنے سپاہیوں کو بھی حوصلہ دلاتے رہتے ہیں۔ ادھر بھارت میں ان کی اہلیہ اور بیٹے بھی بھارتی حکومت پر ان قیدیوں کے بارے میں کچھ کرنے کے لئے دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔ حکومت انہیں بالکل لِفٹ نہیں کراتی لہذا بہادر میجر کا بہادر بیٹا فیصلہ کرتا ہے کہ وہ ہی اپنے باپ کو بچا کر واپس لائے گا۔
گوراؤ نامی یہ نوجوان پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے اور مار دھاڑ، ناچ گانے اور متعدد حیرات انگیز کارناموں کے بعد اپنے باپ تک پہنچ ہی جاتا ہے۔
’دیوار‘ یقیناً ایک اچھی فلم ہو سکتی تھی کیونکہ کہانی کا مرکزی خیال کافی دلچسپ ہے لیکن ایک اچھی ابتدا کے بعد فلم ایک عام بالی وڈ ایکشن ڈرامے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
یہ فلم ان انڈین فلموں میں شامل ہے جن میں پاکستان کی عکاسی بہت ہی منفی انداز میں کی گئی ہے۔ ایسی ایک فلم ’بارڈر‘ بھی تھی لیکن اس میں اور اس میں یہ فرق ہے کہ وہ بہت خوبصورت انداز میں بنائی بنی گئی تھی۔ اس کی کہانی، گانے اور اداکاری کا معیار بہت اچھا تھا جبکہ ’دیوار میں اس بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
فلم کے ہدایتکار ملان لتھاریا ہیں جن کی ایک فلم ’چوری چوری‘ دو سال پہلے ہِٹ ہوئی تھی۔ ’دیوار‘ سے یہی توقع رکھنا شاید مناسب نہ ہو۔ یہ فِلم مار دھاڑ، ناچ گانا اور قوم پسند نعروں کو اکٹھا کر کے فارمولے سے بنائی گئی ہے اور اس کے پیچھے کوئی سنجیدہ غور و فکر ہے ہی نہیں۔
اگر کوئی سوچ ہوتی تو شاید فلم میں کرداروں کو اتنے غلط اور غیر ذمہ دار طریقے سے نہ تصور کیا جاتا۔ مثلاً فلم کے آخری حصے میں دکھایا گیا ہے کہ ایک مسلمان دستی بم پھینکتا ہے لیکن اس سے پہلے پورا کلمہ پڑھتا ہے ۔ اس طرح دکھانا مغرب میں مسلمانوں کے سٹیریو ٹائپ کو تقویت دیتا ہے ۔ اسی طرح فلم میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستان میں رہنے والا ہندو شہری فوراً گورؤ کو پناہ دے دیتا ہے حالانکہ وہ اس کے بارے میں صرف اتنا جانتا ہے کہ وہ انڈیا سے آیا ہوا ایک ہندو ہے۔ اس سے ایک غلط تصور یہ بھی جنم لیتا ہے کہ پاکستان کا ہندو شہری اپنے ملک کا وفادار نہیں ہے۔