Saturday, 19 June, 2004, 12:39 GMT 17:39 PST
ایک نوجوان فلسطینی مصور غزہ کی پٹی میں جاری تنازعے کی عکاسی سے وسیع تر حلقے میں رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں غزہ کا امیج جتنا خراب ہے اس سے زیادہ خراب شاید ہی ہو سکتا ہے۔
ذرا سوچیں، آپ کے ذہن میں غزہ کی کیا تصویر بنتی ہے: جنازوں اور تابوتوں کے ساتھ بازو لہرا لہرا کر نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کی شعلہ بار آنکھیں، یہ جنازے کسی کے بھی ہو سکتے ہیں۔ حماس کے رہنماؤں کے یا انہیں نشانہ بنائے جانے کے دوران زد میں آنے والے عام لوگوں کے، عورتوں، بچوں اور بڑوں کے، کسی کے بھی۔
نفسیات دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ میں جتنے بھی نوجوانوں سے بات کی ہے ان میں ہر چوتھا نوجوان فلسطینی جدو جہد میں جان دینے کے لیے تیار ہے۔
ان میں ہر نوجوان یہ بات جانتا ہے کہ اسے اسرائیل کا مقابلہ کرنا ہے اور یہ بھی کہ ان کے پاس تشدد کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔
حالیہ انتفادہ کی شروعات کے بعد گزشتہ مئی کا مہینہ غزہ میں خوں آشامی کے اعتبار سے بد ترین تھا۔
لیکن نوجوان فلسطینی مصور حازم حرب رفاہ سے ابھرنے والی تصویروں کو قدرے مختلف انداز سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنی پسندیدہ اداس مصری موسیقی لگاتا ہے اور اور اس کے ہاتھ کینوس پر رنگوں اور برش کے ساتھ حرکت کرنے لگتے ہیں۔
اس کا کہنا ہے ’میں برش اٹھاتا ہوں اور گہرے رنگوں کا انتخاب کرتا ہوں اور اس لمحے میں پہنچ جاتا ہوں جب سب کچھ میرے سامنے ہونے لگتا ہے۔ شاید اسی لیے میری تصویروں کے خطوط نمایاں ہوتے ہیں اور ان میں ایک ڈرامہ ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے ’رفاہ پر جو گزر رہی ہے وہ انتہائی ہولناک ہے۔‘
حازم نے عریاں عورتوں کی ایک ایسی سیریز مصور کی ہے جن میں بہت سی حاملہ بھی ہیں لیکن ان تمام کے جسے مسخ شدہ ہیں ایسا لگتا ہے جیسے ان کے نازک نشیب فراز والے جسموں سے سر قلم کیے گئے ہوں۔
حازم کا کہنا ہے کہ انہوں نے رفاہ لوگوں کے اس دکھ کی عکاسی کی ہے جو ان کا مقدر بن چکا ہے۔
حازم کی تمام ہی تصاویر میں فلسطینی جد و جہد کا پہلو نمایاں ہے اور اس کی وجہ بھی ہے کہ حازم غزہ ہی کے ایک مفلس علاقے میں پروان چڑھا ہے۔
![]() حازم کی تجریدی مصوری میں بھی احساسِ زیاں اور مایوسی نمایاں ہے |
وہ کہتا ہے کہ اس کے تمام تصویروں وہ دکھ ہے جو غزہ کی زندگی کے چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔
اس کی تجریدی یا ایبسٹریکٹ تصویریں بھی احساسِ زیاں اور مایوسی سے بھری ہوئی ہیں ان تصویروں میں برقعہ پوش عورتیں بھوتوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔
![]() حازم کا کہنا ہے : فلسطینی ہونے کا مطلب ہے تنازعہ کا حصہ ہونا |
اور یہ تصویرں سچی ہی ہیں کیونکہ ان کا مصور اس بات کو جانتا ہے ’ میری تصویروں میں دکھ اور المناکی ہے اور اس لیے ہے کہ میں ایک ایسی جگہ رہتا ہوں جہاں ہر طرف جنگ ہے اور زندگی اور موت کی کشاکش روزمرہ کا حصہ ہے۔‘