http://bbc.com.im/urdu/

26 February, 2008 - Published 12:07 GMT

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پچیس ارکان نواز لیگ میں شامل

پنجاب اسمبلی کے لیے کامیاب ہونے والے پچیس آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی ہے تاہم پارٹی کے صدر شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں حکومت پیپلز پارٹی کی مشاورت سے ہی بنائی جائے گی۔

پنجاب بھر کے اڑتیس آزاد نومنتخب اراکین صوبائی اسمبلی میں سے پچیس کی مسلم لیگ (ن) میں شرکت کی تقریب ماڈل ٹاؤن کے پارٹی دفتر میں ہوئی۔ شہباز شریف کی موجودگی میں پارٹی کے صوبائی صدر سردار ذالفقار علی کھوسہ نے آزاد اراکین کے نام پکارے جنہوں نے ہاتھ اٹھا کر یا خود کھڑے ہوکر اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔

اس موقع پر صدر شہباز شریف نے کہا کہ ان تمام افراد نے مسلم لیگ (ن) کی رکنیت کا فارم بھرے ہیں اور اب وہ پارٹی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں حکومت سازی کے لیے ایک سو چھیالیس نشستیں چاہیں اور آزاد ارکان کی شمولیت اور چند دیگر کی حمایت کے بعد ان کی اراکین کی تعداد ایک سو چھتیس ہوچکی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ساتھ ہی ساتھ یہ واضح کیا کہ صوبے میں گورنر کی تعیناتی سمیت تمام امور پر پیپلز پارٹی سے مشاورت کی جائے گی۔

 مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے وہ دو اراکین اسمبلی بھی تقریب میں موجود رہے جنہوں نے مسلم لیگ نون کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے جبکہ فنکشنل لیگ کے تین اراکین پہلے ہی شہباز شریف کی حمایت کااعلان کرچکے ہیں
 

انہوں نے کہا کہ پی سی او غیر قانونی تھا اور اب اس کا کوئی وجود نہیں رہا ہے۔منتخب اراکین اب انیس سو تہتر کے آئین کے مطابق حلف اٹھائیں گے۔

مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے وہ دو اراکین اسمبلی بھی تقریب میں موجود رہے جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے جبکہ فنکشنل لیگ کے تین اراکین پہلے ہی شہباز شریف کی حمایت کااعلان کرچکے ہیں،البتہ مسلم لیگ نون کے بعض کارکن وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کی پارٹی میں شمولیت کے خلاف ہیں۔ عین اس وقت جب آزاد امیدوار اپنی شمولیت کا اعلان کر رہے تھے مسلم لیگ کے دفتر کے باہر منچن آباد بہاولنگر کے درجنوں مسلم لیگی کارکن احتجاج کر رہے تھے۔

مسلم لیگ (ن) بہاولنگر کے جنرل سیکرٹری اور مجلس عاملہ کے رکن شفیق خان نے کہا کہ جن لوگوں نے آٹھ برس کےدوران مسلم لیگی کارکنوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے انہیں سینے سے سے لگانا کارکنوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

آزاد امیدواروں کی پارٹی میں شمولیت کے فوراً بعد پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس شروع ہوگیا جس میں شہباز شریف کے پارلیمانی لیڈر ہونے کے فیصلے کی توثیق کی گئی اور کہا گیا کہ شہباز شریف ضمنی انتخاب میں حصہ لیں گے۔

مسلم لیگ نون میں جو آزاد نومنتخب اراکین شامل ہوئے ہیں ان میں پی پی انتالیس خوشاب سے ملک محمد جاوید اقبال اعوان،پی پی چالیس خوشاب سے کرم الہی بندیال،پی پی اکتالیس خوشاب سے محمد آصف ملک،پی پی بیالیس خوشاب سے ملک محمد وارث کلو،پی پی تینتالیس میانوالی سے عبدالحفیظ خان،پی پی چوالیس میانوالی سے امیر حیات خان روکھڑی،پی پی چھیالیس میانوالی سے محمد فیروز جوئیہ،پی پی پچاس بھکر سے ملک عادل حسین اترا،پی پی تہتر جھنگ سے الحاج محمد الیاس چنیوٹی، پی پی اسی جھنگ سے محم مسعود لالی، پی پی اکیاسی جھنگ سے افتخار احمد خان، پی پی نواسی ٹوبہ ٹیک سنگھ سے مخدوم سید علی رضا شاہ، پی پی ایک سو پندرہ گجرات سے چودھری عرفان الدین، پی پی ایک سو پچاسی اوکاڑہ سے رائے فاروق عمر خان کھرل، پی پی ایک سو بانوے اوکاڑہ سے ملک علی عباس کھوکھر، پی پی ایک سو ترانوے اوکاڑہ سے میاں معین وٹو، پی پی دو سو اٹھائیس پاکپتن سے چودھری جاوید احمد ایڈووکیٹ، پی پی دو سو اڑتیس وہاڑی سے آصف سعید منہیس، پی پی دو سو انہتر بہاولپور سے ملک جہانزیب وارن، پی پی دو سوتہتر بہاولپور سے میاں محمد کاظم علی پیرزادہ اور پی پی دو سوچوہتر بہاولپور سے محمد صفدر گل شامل ہیں۔