21 February, 2008 - Published 05:50 GMT
احمدرضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں اگرچہ اب تنہا ہی حکومت بنانے کی قوت رکھتی ہے لیکن شاید برسوں تک دیہی اور شہری تفریق کا شکار رہنے والے صوبے میں متحدہ قومی موومنٹ کو نظر انداز کرنا اس کے لیے آسان نہ ہو۔
سندھ اسمبلی کی 130 جنرل نشستوں میں سے 71 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ ایم کیو ایم دوسرے نمبر پر رہی ہے جس نے 37 نشستیں حاصل کی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے شریک چئیرپرسن آصف علی زرداری کا انتخابات سے پہلے تو یہ کہنا تھا ہی کہ ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد ہوسکتا ہے لیکن بدھ کو بھی اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات دہرائی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ ہمارے کراچی کے دوستوں کو اس (ایم کیو ایم سے اتحاد کرنے) پر اعتراض ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم کے ساتھ مل کے حکومت بنائیں اور اگر وہ حکومت میں نہیں آنا چاہتے تو اس کے باوجود ان کے ساتھ ہمارے اتنے مراسم ضرور ہیں کہ ہم ان کے ساتھ چلیں‘۔
دوسری طرف ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت سازی کے سلسلے میں ان کی جماعت اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے لیکن پارٹی کے قائد الطاف حسین نے یہ کہا ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی جماعتوں سے بات کرنے پر تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر اس سلسلے میں کسی سے بات چیت ہوگی بھی تو اس میں بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ کتنے واضح ذہن اور پالیسی کے ساتھ کوئی حکومت بن رہی ہے، اس کا پروگرام کیا ہے‘۔
’دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں مل کر جو ہماری ترجیحات رہی ہیں مثلاً امن و استحکام اور انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کے خلاف صدر مشرف کی پالیسیوں کا تسلسل جاری رہے کیونکہ ہمیں صدر مشرف سے زیادہ ان کی پالیسیوں سے دلچسپی ہے، اس پر ان کا کیا واضح پروگرام ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے حکومت میں جانا زندگی اور موت کا مسئلہ تو ہے نہیں۔ ’اگر ان (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ) کا ملک کے ان مسائل پر مؤقف واضح نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ اگر ہم حکومت میں نہیں جاتے تو اپوزیشن میں رہ کر حکومت میں شامل جماعتوں کو بے نقاب کریں گے‘۔
ایم کیو ایم نے کراچی اور اندرون سندھ کے دوسرے شہروں سے قومی اسمبلی کی انیس اور سندھ اسمبلی کی سینتیس نشستیں حاصل کی ہیں اور اسے بلاشبہ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت کہا جاسکتا ہے۔ سینئر صحافی غازی صلاح الدین کا کہنا ہے کہ جمہوری طور پر تو پیپلز پارٹی کو حق ہے کہ وہ سندھ میں اپنی حکومت بنائیں لیکن ایم کیو ایم کے بغیر حکومت کرنے میں پیپلزپارٹی کو عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
’کابینہ میں مختلف علاقوں کی نمائندگی بھی بہت ضروری ہوتی ہے اور کراچی تو اتنا اہم شہر ہے۔ تو میرے خیال میں حکومت کے ٹھیک سے چلنے کے لیے مفاہمت کی بہت ضرورت ہے ایسے ماحول میں خاص طور پر کیونکہ جو شہروں کے احتجاج کی طاقت بہت زیادہ ہوتی ہے‘۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم صدر پرویز مشرف حامی وہ واحد جماعت ہے جس نے پچھلے انتخابات کے مقابلے میں حالیہ انتخابات میں زیادہ نشستیں جیتی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 45 اعشاریہ 30 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ نواز اور متحدہ مجلس عمل دو واحد سیاسی قوتیں ہیں جو سندھ اسمبلی کی ایک بھی نشست حاصل نہیں
کرسکیں۔
اس کے برعکس عوامی نیشنل پارٹی نے سندھ اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار کراچی سے دو نشستیں حاصل کی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ کی قومی اسمبلی کی کل 61 نشستوں میں سے پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ یعنی تیس نشستیں اور متحدہ قومی موومنٹ نے انیس نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ صوبے سے قومی اسمبلی کے دیگر حلقوں میں مسلم لیگ قاف نے پانچ، مسلم لیگ فنکشنل نے تین، نیشنل پیپلز پارٹی نے دو اور ایک حلقے سے آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی ہے۔