19 February, 2008 - Published 15:04 GMT
سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آئندہ قومی اسمبلی میں ان کی جماعت اپوزیش کا کردار ادا کرے گی اور کس جماعت سے اقتدار کے لیے اتحاد نہیں کریں گے۔
مسلم لیگ کی انتخابی شکست کے بعد لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ قومی مفاد، اسلام اور جہموریت کے لیے آئندہ حکومت سے تعاون کریں گے لیکن اُن معاملات میں حکومت سے کا بالکل ساتھ نہیں دیں گے جو اُن کے سیاسی مفاد کے لیے ہو گا۔
انہوں نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں بھی اللہ کی کوئی بہتری ہے۔‘ تاہم انہوں نے اس شکست کا ذمہ دار صدر کو ٹھہرانے سے انکار کر دیا۔
شجاعت حسین دو نشستوں سے انتخابات لڑ رہے تھے اور دونوں سے انہیں نکامی ہوئی۔ اس انتخابی شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوے پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دینے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت وہ واحد جماعت ہے جس کے منشور میں ہے کوئی شخص دو مرتبہ سے زیادہ جماعت کا صدر نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ان کی دوسری مدت ہے اور اس کے بعد وہ پارٹی کے صدر نہیں رہیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کو میاں نواز شریف نے چھوڑا تھا اور اُن کی جماعت اصل مسلم لیگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف تحریک استقلال چھوڑ کر مسلم لیگ میں آئے تھے اور انہوں نے نواز شریف کو مسلم لیگ میں متعارف کرایا تھا۔