http://bbc.com.im/urdu/

19 February, 2008 - Published 12:28 GMT

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان

فاٹا میں دس سیٹوں پر الیکشن

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں میں قومی اسمبلی کی بارہ نشستوں میں سے دس نشستوں پر الیکشن ہوئے ہیں۔

دو نشستوں پر الیکشن ملتوی کردیا تھا۔ جس میں این اے بیالیس جنوبی وزیرستان جہاں سے بیت اللہ محسود کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد لوگوں نقل مکانی کر چکے تھےاور این اے سینتیس پاڑہ چنار جس میں پیپلز پارٹی کے امیدوار پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں چالیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے تھے شامل ہیں۔

علاقے سے غیر سرکاری نتائج کے مطابق اب تک سات نتائج سامنے آئے ہیں۔ جس میں ایک روشن خیال مولوی خیبر ایجنسی سے کامیاب ہوا ہے۔ اور چھ دوسرے امیدوار سیایسی پارٹیوں کے لوگ ہیں۔ جس میں این اے چھتیس مہمند ایجنسی سے بلال الرحمن این اےاٹھتیس کرم ایجنسی سے منیر اورکزئی این اے انتیس اورکزئی ایجنسی سے جواد حسین این اے چالیس شمالی وزیرستان سے کامران این اے تریالیس باجوڑ سے شوکت اللہ این اے چولیس باجوڑ سے اخوندزادہ چٹان این اے پینتالیس خیبر ایجنسی سے نورالحق شامل ہیں اور این اے اکتالیس جنوبی وزیرستان این اےسنتالیس ایف ار اور این اے چیالیس خیبر کے نتائج ابھی تک سامنے نہیں ائے ہیں۔

ان نتایج کے مطابق اس دفعہ مذہبی قوتوں کو قبائلی علاقوں میں بھی بری طرح شکست ہوئی ہے۔ اور دوسرے عتدال پسند پارٹیوں کے حامی لوگ کامیاب ہوگئے ہیں۔ اور ساتھ ہی ان علاقوں میں اس دفعہ خواتین کا ووٹ بھی استعمال ہوا ہے۔ جو یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ایم ایم اے کے پانچ سالہ حکومت میں وہ لوگوں کی توقعات پر پورے نہیں اترے اس لیے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں ایم ایم اے مخالف ووٹ کا استعمال زیادہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمن کو پیپلز پارٹی کے نوجوان امیدوار فیصل کنڈی کے ہاتھوں بری شکست ہوئی ہے۔ ایک غیر سرکاری نتائج کے مطابق فیصل کنڈی کے کل ووٹ تریاسی ہزار تین سوسنتالیس ہیں اور مولانا کے پینتالیس ہزار اٹھ سو اٹھتیس ہے۔ ساتھ ہی مولانا کے دو بھائی صوبائی اسمبلی سے ہار گئے ہیں۔